انوارالعلوم (جلد 6) — Page 136
انوار العلوم جلد 4 ۱۳۶ آئینہ صداقت جو عقائد ظاہر کرتے ہیں وہ صرف دکھاوے کے لئے ہیں ورنہ دراصل آپ کے عقائد اور ہیں ۔ اور وہ چاہتا تھا کہ اس طرح جماعت کو آپ کے خلاف بدظن کرے مگر اس کا منصوبہ کارگر نہ ہوا اور سخت نا کافی کا منہ اسے دیکھنا پڑا۔ اس بات کا ثبوت یہ بھی ہے کہ شخص ان چند لوگوں میں سے ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی ایک رؤیا کے مطابق حضرت خلیفہ المسیح الاول آخر عمر میں آکر مرتد ہو گئے تھے ۔ مولوی محمد علی کے بیان متعلق بناء اخراج یہ تو وہ اندرونی شہادت ہے جو مولوی محمد علی صاحب کے اس دعوی کو رد کرتی ہے کہ حضرت ظیر از جماعت کی غلط بیرونی خلیفتہ المسیح الاول نے ظہیر الدین کو اس لئے جماعت میں سے نکالا تھا کہ آپ کو اس کی کتاب نبی اللہ کے ظہور سے اختلاف تھا ۔ اب میں بعض بیرونی شہادتیں پیش کرتا ہوں :- اول شہادت اس بیان کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ اس کتاب کا ذکر سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر میں متعدد جگہ آیا ہے لیکن اس کے خلاف کسی نے کچھ نہیں لکھا ۔ اگر لکھا ہے تو تعریف ہی کی ہے ۔ بدر مورخہ ۱۲ راکتو بر شانہ کے پرچہ میں اس کتاب کی رسید دی گئی ہے اور ایڈیٹر اخبار پدر اخبار کی طرف سے اس کا اشتہار دیا گیا ہے لیکن اس کے برخلاف ایک لفظ نہیں لکھا گیا ہے ۔ اگر یہ کتاب ایسی خطر ناک تھی۔ تو کیا وجہ کہ اس کا اشتہامہ ہمارے اخبارات میں ایڈیٹر اخبار کی طرف سے دیا جاتا اور جماعت کو اس کے گندے مضمون سے آگاہ نہ کیا جاتا ۔ بے شک بعض دفعہ اختلاف کو چنداں وقعت نہیں دی جاتی ۔ لیکن بقول مولوی محمد علی صاحب کے اس کتاب میں جو مضامین تھے وہ تو ایسے خطر ناک تھے کہ ان کی بناء پر حضرت خلیفہ مسیح نے ظہیر الدین کو جماعت خطرناک کہ ان سے خارج کر دیا تھا۔ پھر ایسے خطرناک مضمون کی کتاب کو بے نوٹس کیونکر چھوڑ دیا گیا۔ دیا کی ریداری رسید ریویو آن ریلیجینز کے طور پر اشتہار دے دیا تھا۔ ورنہ اس نے اسے پڑھا نہ تھا بگر ہم دیکھتے ہیں کہ ریویو آف ریلیجنز میں جس کے ایڈیٹر خود مولوی محمد علی صاحب تھے۔ اس کتاب پر تعریفی ریولیو کیا گیا ہے۔ ہم اس ریویو کو تمام و کمال اس جگہ نقل کر دیتے ہیں :۔ نبی اللہ کا ظہور حصہ اول۔ یہ ۱۲۶ صفحہ کی چھوٹی تقطیع کی ایک کتاب ہے۔ جو ہمارے دوست نی محمد ظہیر الدین صاحب نے حال میں حضرت می موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصدیق میں تصنیف کی ہے۔