انوارالعلوم (جلد 6) — Page 134
انوارالعلوم جلد 4 ۱۳۴ آئینه صداقت قلال اعلان اس کے متعلق ہے۔ بجائے اپنی تحریر پر شرمندہ ہونے اور اپنی بے ادبی کی تلافی کرنے کے وہ لکھتا ہے کہ مجھے آپ ۔ ، آپ کے عقائد سے اختلاف ہے ۔ اس لئے اسی خطہ کے مطابق کہ اس کے اور میرے عقائد میں اختلاف ہے۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ اس صورت میں اس کا مجھ سے کیا تعلق اور میری جماعت کا اس سے کیا علاقہ ہے ۔ اب حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کے اس اعلان کو مولوی محمد علی صاحب کے مندرجہ ذیل فقرہ سے ملا کر پڑھو ۔ چونکہ محمد ظہیر الدین نئے عقائد شائع کر رہا ہے ۔ اس لئے اس کا کوئی تعلق احمد یہ جماعت سے نہ سمجھا جاوے " مولوی صاحب کے یہ الفاظ کہ ظہیر الدین نئے عقائد شائع کر رہا ہے۔ کیا یہ صاف ثابت نہیں کرتے کہ مولوی صاحب اس امر کے ثابت کرنے کے لئے کہ ظہیر الدین کو جماعت احمدیہ سے خارج کرنے کا باعث اس کی کتاب نبی اللہ کا ظہور یا اس کے ہم معنی اور کوئی ٹریکیٹ ہوا تھا۔ اپنی طرف سے شائع کرنے کا لفظ بڑھاتے ہیں ۔ حالانکہ حضرت خلیفہ المسیح کے اعلان میں اس کے کسی ٹریکٹ کی طرف اشارہ نہیں ۔ بلکہ اس کے اس خط کی طرف اشارہ ہے۔ جو اس نے پرائیوٹ طور پر آپ کی خدمت میں لکھا اور باوجود حضرت خلیفۃ المسیح کے تحریر فرمانے کے کہ آپ نے اس کے کسی اشتہار کے خلاف اعلان نہیں کیا ۔ بلکہ مولوی یار محمد صاحب اور عبد الله تیما پوری کے اشتہارات کے خلاف اعلان کیا ہے اس میں اس نے تحریر کیا کہ بزرگوار ! مجھے آپکے بعض اعتقادات سے اختلاف ہے۔ اور جب تک آپ میرے اعتقادات کا غلط ہونا ثابت نہ کر دیں گے ۔ تب تک میں اپنے عقائد پر قائم ہوں " الله را محکم ۱۴ اکتو برای صفحه ) چنانچہ اس کے اس خط کا جواب پرائیوٹ طور پر حضرت خلیفہ المسیح نے دیا ۔ اس میں بھی یہ لکھا ہے کہ تم نے لکھا ہے کہ میری طرف اس میں اشارہ ہے ۔ میں نے لکھا ہے کہ اس میں آپ کی نسبت اشارہ نہیں ہے ۔ حالانکہ میں اپنی طرز میں مناسب نہیں سمجھتا تھا ۔ مگر جن کی طرف اشارہ تھا۔ اس کا نام بھی آپ کی طرف لکھ دیا۔ مگر پھر بھی آپ نے بڑی صفائی سے لکھ دیا کہ نور الدین کے عقائد سے میں مخالفت رکھتا ہوں ۔ اور ان عقائد پر میں بڑا مضبوط ہوں" (الحکم ۱۴ اکتوبر 19 ئه م ) اسی طرح ایک اور خط میں تحریر فرماتے ہیں : " آپ کا چونکہ میرے اعتقاد سے بھی اختلاف ہے ۔ جیسا کہ آپ نے لکھا ہے ۔ اس واسطے آپ کو میں احمدی نہیں سمجھتا آن حوالجات کو جب عام اعلان سے ملا کر پڑھا جاوے۔ تو صاف ثابت ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح نے ظہیر الدین کو اس کی کسی کتاب یا رسالہ کی اشاعت یا فی الواقع کسی اختلاف عقیدہ کی بناء پر نہیں ۔ بلکہ اس کی اس تحریر کی بناء پر جماعت سے الحکم ۱۲ اکتوبر شد حت