انوارالعلوم (جلد 6) — Page 124
انوار العلوم جلد 4 ۱۲۴ آئینہ صداقت مفتی محمد صادق صاحب و مولوی صدر الدین صاحب یکی از رفقائے مولوی محمد علی ایک تبلیغی دورہ پر بھیجے گئے تھے۔ اس دورہ کے دوران میں مولوی شبلی صاحب نعمانی بانی ندوہ سے بھی ان کو ملاقات کا موقع ملا۔ سلسلہ گفت گو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کا بھی ذکر آیا ۔ اور جناب مولوی شبلی صاحب کے سوال پر ان صاحبان نے جواب دیا کہ ہم مرزا صاحب کو لغوی معنوں میں نبی مانتے ہیں۔ گو یہ جواب درست تھا۔ کیونکہ لغوی معنے اور شرعی اصطلاح ایک ہی ہے ۔ مگر چونکہ یہ جواب ایک رنگ اخفاء کا رکھتا تھا ۔ اور اس طرف اشارہ ہوتا تھا کہ گویا خدا تعالیٰ کے نزدیک نبی نز کے کچھ اور معنے ہیں۔ مجھے نا پسند ہوا اور مجھے خوف ہوا کہ یہ طریقی جماعت میں عام نہ ہو جائے خصوصاً جبکہ میں نے دیکھا کہ اس سال چند دنیا وی تحریکوں (مثلاً مسلم یونیورسٹی کی رو میں یہ کہ بعض احمدی اپنے مرکز سے ہٹ رہے ہیں۔ تو میں اس جواب سے اور بھی ڈرا ۔ اور میں نے چاہا کہ سالانہ جلسہ کے موقع پر خاص طور پر اپنی جماعت کو توجہ دلاؤں۔ حضرت خلیفہ اول اس تقریر کے موقع پر موجود نہ تھے۔ مگر خواجہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب موجود تھے۔ ان لوگوں کی موجودگی میں تمام جماعت کے روبروئیں نے اس موضوع پر تقریر کی ، اور میری یہ تقریر اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ میں ہمیشہ حضرت مسیح موعود کو نبی سمجھتا رہا ہوں ۔ چند فقرات اس تقریر کے جو ۱۹ جنوری اللہ کے پرچہ بدر میں شائع ہو چکی ہے میں ذیل میں درج کرتا ہوں ۔ وہی خدا ہے جس نے اپنے فضل سے تمہیں توفیق دی کہ تم ایک نبی کی اتباع کرونہ بدر جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۶ کالم ۳) پھر احمدیوں اور غیر احمدیوں کے متعلق لکھا ہے :- سوداگروں کے درمیان بھی میں دیکھتا ہوں کہ اگر چہ ایک جنس ہی ہے تو بھی وہ کہتا ہے نہیں جی ہمارا غلہ خاص قسم کا ہے اور تم تو دونوں فریقوں میں تین فرق دیکھتے ہو اور پھر تم میں سے بعض ہیں جو کہ دیتے ہیں کچھ فرق نہیں۔ کیا یہ فرق نہیں کہ تم ایک نبی کے متبع ہو اور دوسری قوم ایک نبی کی مکذب ہے * یہ بھی یاد رکھو کہ مرزا صاحب نبی ہیں اور بحیثیت رسول اللہ کے خاتم النبین ہونے کے آپ کی تباع سے آپ کو نبوت کا درجہ ملا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ اور کتنے لوگ یہی درجہ پائیں گے ہم انہیں کیوں نبی نہ کہیں ۔ جب خدا نے انہیں نبی کہا ہے۔ چنانچہ آخری عمر کا الہام ہے کہ یا أَيُّهَا النبي العِمُوا الجائع والمفتر جو مسیح موعود کے ایک لفظ کو بھی جھوٹا سمجھتا ہے وہ خدا کی درگاہ سے مردود ہے کیونکہ خدا اپنے نبی کو وفات تک غلطی میں نہیں رکھتا " د بدر ۱۹ جنوری ۱۹۱۱ء صفحه ۷ ) بدر ۱۹ جنوری ۱۹۱۱ ء صفحہ ۶ : سے تذکرہ صفحہ ۷۴۶ ایڈیشن چهارم