انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 125

انوار العلوم جلد 4 " ۱۲۵ آئینہ صداقت تم اپنے امتیازی نشان کو کیوں چھوڑتے ہو تم ایک برگزیدہ کو بی مانتے ہو اور تمہارے مخالف اس کا انکار کرتے ہیں۔ حضرت صاحب کے زمانہ میں ایک تجویز ہوئی کہ احمدی غیر احمدی مل کر تبلیغ کریں ۔ مگر حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم کونسا اسلام پیش کرو گے ۔ کیا جو خدا نے تمہیں نشان دیئے جو انعام خدا نے تم پر کیا وہ چھپاؤ گے“ ایک نبی ہم میں بھی خدا کی طرف سے آیا۔ اگر اسی اتباع کرینگے تو ہی پھل پائینگے جوصحابہ کرام کیلئے مقر ہو چکے ہیں۔ ان عبارتوں سے میرا مذہب نبوت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بخوبی ظاہر ہے اور یہ تقریر خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب کی موجودگی میں ہوئی تھی۔ اور چونکہ میری تقریر کے بعد صدرانجمن احمدیہ کی رپورٹ سنائے جانے اور چندہ کی تحریک کا وقت تھا ور یہ لوگ انجمن کے عہدہ دار تھے اس لئے اس وقت خاص طور پر جلسہ میں موجود تھے اور نہیں کہہ سکتے کہ اس وقت تک ہمیں تمہارے خیالات کا علم نہ تھا ۔ 1911 غرض ء سے لے کر نالہ کے دسمبر تک میری مختلف تحریرات اس پر شاہد ہیں کہ میں ہمیشہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی مانتا رہا ہوں ۔ اس کے بعد سالہ کے مارچ میں میں نے ایک مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہ ماننے والوں کے درجہ کے متعلق لکھا جو اپریل شانہ کے تشحید اور ہم مٹی والہ کے بدر اور ۱۴ رمٹی سالانہ کے الحکم میں شائع ہوا۔ اور اس کے بعد ایک لمبا سلسلہ مضامین اور تقریروں کا شروع ہو گیا جس کا انکار خود مولوی محمد علی صاحب نے بھی نہیں کیا اور نہ کر سکتے ہیں۔ اب ان واقعات کی روشنی میں اس معاملہ کو میرے مضامین پر ظہیرالدین کے خیالات کا اثر ہیں یا یا رسول الخاص دیکھ کر کوئی شخص کیا یہ خیال کر سکتا ہے کہ ظہیر الدین اروپی کی تعلیم سے متاثر ہو کر اور اس کی کتاب نی اللہ کا طور پڑھ کر میں نے اپنا خیال دربارہ نبوت مسیح موعود قائم کیا تھا۔ ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کا ظہور جیسا کہ خود مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں کہ میر الدین کا اس مضمون کے متعلق س نا سب سے پہلا رسالہ ہے اور جیسا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں ۔ اپریل المہ میں اس کی تصنیف کا کام ختم ہوا ہے اور اس کتاب کے آخری صفحہ پر ہم یہ لکھا پاتے ہیں کہ ۲۶ اپریل 19 نہ کو اس کی تصنیف ختم ہوئی ہے اور پھر اسی صفحہ پر اس کتاب کے شائع کرنے والے چوہدری برکت علی صاحب کی تحریمہ درج ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ در جولائی اللہ کے بعد یہ کتاب پریس میں گئی ہے ۔ اس کے مقابلہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ میرا مضمون مسئلہ کفر و اسلام غیر احمد یاں کے متعلق جو در حقیقت سلسلہ اولیٰ کا آخری مضمون ہے (جیسا کہ پہلے ثابت کیا جا چکا ہے، نہ کہ پہلا ۔ اپریل 19 نہ میں تشخیذ الاذہان میں شائع بھی ہو چکا تھا اور جیسا کہ 4 اپریل 1911ء کے پرچہ بدر کے مندرجہ ذیل اقتباس سے ثابت ہے ۔ مارچ اوہ میں ہی ه بدر ۱۹ جنوری سته م