انوارالعلوم (جلد 6) — Page 123
انوار العلوم جلد 4 الله آئینه صداقت ہے۔ ہاں نمونہ کے طور پر صرف چند سطریں اس میں سے اس جگہ نقل کی جاتی ہیں جس سے بخوبی اس بات کا علم ہو سکتا ہے کہ آیا اس رسالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی بتایا گیا ہے یا نہیں دیکھئے رسال تمجید الا زبان جلد سوم صفحہ ۲۱۷) ہاں اگر مخالف اب بھی انکار کریں۔ تو سوائے حضرت مسیح موعود کے سارت اس الہام کے کہ إِنَّمَا اشْكُوا بَنَى وَحُزْنِي إِلَى اللهِ - ہم اور کیا کر سکتے ہیں ۔ ایک نبی آیا ۔ اور ان کے لئے رات اور دن غم کھا کر اس دنیا سے اُٹھ گیا۔ اور یہ لوگ اب تک اس سے انکار کرتے ہیں۔ ہماری خدا سے یہ خواہش نہیں کہ یہ مخالف ہلاک ہوں۔ بلکہ دل ان کے لئے درد محسوس کرتا ہے اور کڑھتا ہے اور ایک تڑپ ہے کہ خدا ان کو ہدایت دے اور اپنے نبی کی شناخت دے ۔ اگر چہ یہ لوگ ہم پرطعن وتشنیع کرتے ہیں۔ مگر ہم ان کے لئے دُعائیں کرتے ہیں کہ اسے خدائے قادر تو ہمارے دلوں کو جانتا ہے ۔ اور تجھے علم ہے کہ ہمارے دل ان گم گشتہ راہوں کے لئے کیسی تکلیف پاتے ہیں۔ پس اسے عالم الغیب والشہادۃ ہمارے دکھوں اور تکلیف کو دیکھ اور ہم پر رحم کرے اور ان عموں سے ہم کو چھڑا۔ اور ہمارے بھائیوں کو ہدایت اور نور کا راستہ جو تیرا نبی ہمارے لئے کھول گیا ہے بتا اور انہیں اس کی شناخت کی توفیق عنایت کر * اس وقت جبکہ حضرت مسیح موعود کی وفات نے تمام احمدیوں کے دل ہلا دیئے ہوئے تھے۔ میرانی کے لفظ سے آپ کو بار بار یاد کرنا اور حضرت خلیفہ اول خود مولوی محمد علی صاحب اور باقی تمام جماعت کا اس مضمون کے خلاف آواز نہ اٹھانا بلکہ اسے قبولیت کی نظروں سے دیکھنا اس امر کا ثبوت ہے کہ حضرت مسیح موعود عه کی نسبت اس وقت نہ صرف میرا بلکہ سب جماعت احمدیہ کا کسی عقیدہ تھا کہ آپ نبی ہیں ۔ اسی طرح شانہ کے جلسہ میں جو اپریل سنشانہ کو منعقد ہوا ۔ جو میری تقریر ہوئی اور جس میں خود حضرت خلیفہ المسیح الاول میر مجلس تھے اور جو بدر اور تشحمید الاذہان میں شائع ہو چکی ہے میں نے یہ الفاظ کیسے تھے : یہ وعدہ ہم سے اس بناء پر نہیں کہ ہم مسیح کی وفات کو مان لیں۔ بلکہ خدا نے اپنے رسول " یعنی حضرت مسیح موعود کی معرفت ہم سے وعدہ کیا ہے کہ اگر اسی جنس کو خریدیں گے جس کو پہلوں نے خریدا تو ہم سے بھی وہی نیک سلوک ہو گا " تشحمید الاذہان فروری شانه جلد ۴ نمبر صفحه ۲۹) پھر اسی طرح بیان کیا تھا کہ خدا ظالم نہیں ۔ ہم اپنے آپ کو ہی دیکھتے ہیں کہ اس کا ایک نبی ہم میں " آیا ۔ اور اپنا کام کر کے ہم سے جدا ہو گیا ۔ ا تشهيد الاذہان فروری شنشانه جلدیم نمبر ا صفحه ۳۶) اس کے بعد دسمبر نامہ کو جلسہ سالانہ کے موقع پر میری تقریر ہوئی ۔ جو وار جنوری شامہ کے اخبار بدر میں شائع ہو چکی ہے ۔ اس میں بھی حضرت مسیح موعود کی نبوت پر میں نے خاص زور دیا ۔ بلکہ اس تقریر کا موضوع ہی نبوت ہے اور اس کا محرک مفصلہ ذیل واقعہ ہوا ۔ نشانہ میں مکرمی و عظمی حتی فی اللہ تشهيد الاذہان جون جولائی شاد جلد ۱۳۰۳ عه تاریخی شواہد سے ثابت ہے کہ ۱۹۰۸ء کا جلسہ سالانہ دسمبر ۱۹۰۸ ء میں ہی منعقد ہوا تھا۔ سہو کتابت سے اپریل ۱۹۰۹ ء لکھا گیا ہے۔