انوارالعلوم (جلد 6) — Page 122
انوارالعلوم جلد 4 بلکہ ہمیشہ اس کا اظہار کرتا رہتا تھا۔ ۱۲۲ آئینہ صداقت نبوت مسیح موعود پر میرے مضامین کے چند حوالے ان حوالہ جات کے تحریر کرنے کے بعد جن سے یہ ثابت ہوتا ہے۔ کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ہی آپ کو نی یقین کرتا تھا۔ اور اپنے اس خیال کو شائع کرتا رہتا تھا۔ میں چند اور حوالہ جات بھی اپنی تحریرات سے درج کر دیتا ہوں جو حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد کے ہیں تاکہ حق جو لوگوں پر ثابت ہو کہ میں نے کسی زمانہ میں بھی اس عقیدہ کے اظہار میں اخفاء سے کام نہیں لیا اور اس کی اشاعت سے باز نہیں رہا۔ بلکہ جب سے میں نے اپنے ہاتھ میں قلم پکڑی ہے۔ برابران مضامین کو پبلک کے سامنے لاتا رہا ہوں ۔ اور میرے پہلے مضمون کی تحریر سے سے آج تک ان مضامین کا سلسلہ ایسا پیوستہ ہے کہ کوئی کڑی اس میں سے غائب نظر نہیں آتی ۔ وفات مسیح موعود پر ایک مضمون حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد کی تاریخ اور نبوت کے متعلق پہلا حوالہ میں سب سے بڑا واقعہ خود حضرت مسیح موعود کی دفات کے معا بعد کے حالات ہیں ۔ جیسا کہ قدیم سے سنت اللہ چلی آئی ہے۔ حضرت مسیح موعود کی وفات بھی ایسے حالات میں ہوئی کہ دشمنوں میں خیال پیدا ہوا کہ آپ ناکام فوت ہوئے ہیں۔ اور بعض احمدی کہلانے والوں کے قدم بھی اس طرح لڑکھڑا گئے جس طرح کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قبائل عرب کے قدم لڑکھڑا گئے تھے۔ ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے دشمنوں کے حملوں کو رد کرنے اور دوستوں کے دلوں کو مضبوط کرنے کے لئے ضروری تھا کہ ان تمام شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جاتا۔ جو حضرت مسیح موعود کے کام کے متعلق مخالفوں کی طرف سے پیدا کئے جاتے تھے ۔ چنانچہ اس غرض کے پورا کرنے کے لئے حضرت خلیفہ اول کے علاوہ اور بہت سے احمدیوں نے اس موضوع پر مضامین لکھے جن میں سے ایک میں بھی تھا۔ میرا یہ مضمون رسالہ تشحید الا زبان کے پرچہ جون و جولائی شاہ نمبر ، ہے میں شائع ہوا اور اس کے علاوہ اس کو علیحدہ کتاب کی صورت میں بھی شائع کیا گیا ۔ اور اس کتاب کا نام حضرت خلیفہ اول نے ایک الہام کے ماتحت - صادقوں کی روشنی کو کون دور کر سکتا ہے ۔ رکھا۔ یہ کتاب اور یہ رسالہ کثرت سے احمدیوں اور غیر احمدیوں میں شائع کیا گیا ۔ تاکہ ان شکوک کا ازالہ ہو جو حضرت مسیح موعود کی وفات پر آپ کے دشمنوں نے پیدا کئے تھے اس کتاب میں بائیں جگہ میں نے حضرت مسیح موعود کو نبی کے لفظ سے یاد کیا ہے اس جگہ ان تمام عبارتوں کے نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہر ایک شخص اس رسالہ کو منگوا کر اپنا اطمینان کر سکتا ر