انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 119

انوار العلوم جلد 4 ۱۱۹ آئینه صداقت حضرت مسیح موعود کو ہی لکھا تھا اور ایک ہی دفعہ نہیں۔ بار بار ہی کہ کر پ کو پکارا تھا۔ اور پھر لکھا تھا کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ مجھ پر آدم اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسی اور محمد و غیر ہم (علیہم السلام) کی طرح وحی نازل فرماتا ہے۔ (تشحید الا زبان یکم مارچ شاہ صفحہ ۹) اگر اس وقت تک جماعت میں سے کوئی شخص حضرت مسیح موعود کو نبی نہیں مانتا تھا تو اس پر مولوی محمد علی صاحب کو چونک پڑنا چاہئے تھا کہ یہ کیا ہوگیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک شخص کونبی نبی کہہ کر پکارا جانے لگا ہے ۔ مولوی صاحب یہ نہیں کہ سکتے کہ میں نے بغیر دیکھے رسالہ پر ریویو کر دیا تھا ۔ کیونکہ انہوں نے اپنے رسالہ میں میرے مضمون کا خلاصہ خود میرے ہی الفاظ میں نقل کیا ہے بس کم سے کم وہ حصہ جوانہوں نے نقل کیا ہے وہ تو انہوں نے ضرور پڑھا ہو گا۔ اس میں حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے کا بھی ذکر ہے ۔ پس حیرت ہے کہ اگر نبوت کا عقیدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد گھڑا گیا ہے تو کیوں اس وقت مولوی صاحب نے شور نہ مچایا ۔ مولوی صاحب تو اس بات کو حضرت مسیح موعود کا ایک معجزہ قرار دیتے ہیں کہ ان کے ایک لڑکے کے دل میں اس عمر میں جو کھیل کود کا زمانہ ہے ایسے نیک خیالات پیدا ہوئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی اندر باہر کی زندگی ایک سی ہے۔ ان کو دیکھ کر بچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ مگر ان کے آج کل کے خیالات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک تباہ کن خیال تھا ، ایک ضلالت بھرا مضمون تھا ، ایک برباد کر دینے والا عقیدہ تھا ، ایک باطل کو فروغ دینے والا مسئلہ تھا، جو تشجید الاذہان کے ذریعہ دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ۔ بلکہ یوں کہو کہ اسلام کی جڑھ پر اس مضمون کے ذریعہ سے تبر رکھ دیا گیا تھا اور اس میں ایسی باتیں بیان کی گئی تھیں کہ بقول مولوی محمد علی صاحب آج تک اسلام میں ایسے اختلاف کی بنیاد نہیں رکھی گئی وہ ایک زہر کا پیالہ تھا جس کے ذریعہ ایمانی زندگی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا گیا پیس اس مضمون کو بجائے معجزانہ قرار دینے کے اس پر صدائے نفریں بلند کرنی چاہئے تھی اور صف ماتم بچھا دینی چاہئے تھی اور بجائے اس کے کہ یہ کہا جاتا کہ دیکھو مسیح موعود کے ایک بچے کے کیسے عمدہ خیالات ہیں جو مسیح موعود کی صداقت پر دلیل ہے۔ چاہئے تھا کہ مولوی صاحب اپنے رسالہ میں مجھے اس وقت ابن نوح قرار دے کر اس بات پر زور دیتے کہ کوئی شخص ان خیالات سے دھوکا دھوکا نہ کھائے ۔ یہ مائے ۔ یہ مسیح موعود کے خیالات نہیں ۔ مسیح موعود تو ہر گز اپنے آپ کو نبی نہیں کتنے اور اس طرح اپنی نسبت نبی کا لفظ لکھنے کو نا پسند کرتے ہیں ۔ بلکہ اس مصیبت کے خطرہ سے ڈر کر جو اسلام پر اس مضمون کے ذریعہ آنے وا آنے والی تھی چاہئے تھا کہ اسی وقت روتے ہوئے اور آہیں بھرتے ہوئے حضرت مسیح موعود کے پاس حاضر ہوتے اور آپ کو بھی اس