انوارالعلوم (جلد 6) — Page 120
انوار العلوم جلد 4 ۱۲۰ آئینہ صداقت آفت عظیمہ پر آگاہ کرتے اور میرے جماعت سے خارج کرنے پر زور دیتے اور اس طرح فتنہ عظیمہ کو دور کر کے اجر عظیم حاصل کرتے مگر بجائے اس کے آپ نے اس وقت میری تعریف کی۔ کیا آپ بھی انہی لوگوں میں سے تھے جن کی نسبت آج اپنی کتاب سپلٹ میں لکھتے ہیں کہ :- Being brought up within the circle of admirers of his father be contracted the narrow views which fall to the lot of young men brought up under similar circumstances۔ p۔ 23 ه اور کیا صرف خوشامد کے طور پر آپ نے یہ ریویو لکھ دیا تھا یا آپ جانتے تھے کہ مسیح موعود نبوت کا دعویٰ رکھتے رکھتے ہیں ہیں اور اور آ آپ اس وقت زندہ موجود ہیں۔ اگر اس وقت میں ان ان خیالات خیالات کی تردید کروں گا تو میرا اندرو نہ کھل جاوے گا اور حق ظاہر ہو جاوے گا ۔ یا آپ خود بھی اس وقت یہیں اعتقاد رکھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود نبی ہیں۔ ان تینوں امور میں سے کون سا امر حق ہے ؟ آیا یہ میری خوشامد تھی جس نے آپ سے یہ تعریف لکھوائی یا حضرت مسیح موعود کا خوف یا اپنا عقیدہ ہیں تو یہی کہوں گا کہ اس وقت آپ کا بھی یہی عقیدہ تھا ۔ ظہیر الدین کی طرف اس امر کو منسوب کرنا تو اسی مثل کے مطابق ہے کہ اگر چہ گندہ است مگر ایجاد بنده است بیٹھے بیٹھے آپ کو ایک خیال سوجھا ۔ اور آپ نے اس پر ایک عمارت بنالی۔ ورنہ جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود کی زندگی سے ہی آپ کو نبی مانتی چلی آئی ۔ خصوصاً میں اور آپ کہ دونوں کی تحریریں اس پر شاہد ہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ میں آج بھی اسی عقیدہ پر قائم ہوں لیکن آپ ایڑیوں کے بل پھر گئے ہیں ۔ مسیح موعود کی نبوت کائیں پہلے سے ہی قائل تھا یہ بات اتفاق نہیں کی جا سکتی کہ حضرت مسیح موعود کے سب سے بڑے مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی اپنی الہامات پر جن کو بعد میں انہوں نے عقائد کفریہ پرمشتمل بتایا ہے تعریفی طور پر ریویو لکھا ہے ۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین کو ایک معجزہ قرار دیا ہے ۔ اور اس کے متعلق لکھا ہے کہ یہ ہماری رائے میں یہ ۔۔ ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی ۔۔۔ اور اسکا موقف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و رسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی کتاب بنا دیے " اور حضرت مسیح موعود کے موعود جانشین کے سب سے بڑے مخالف نے بھی اس کے ایک مضمون پر جوانی اشاعۃ السنۃ نمبر 4 جلد ۷ صفحه ۱۶۹ ، ۱۷۰