انوارالعلوم (جلد 6) — Page 118
انوار العلوم جلد 4 ۱۱۸ آئینه صداقت کیا خیالات تھے مولوی صاحب لکھتے ہیں :۔ اس رسالہ کے ایڈیٹر مرزا بشیر الدین محمود احمدحضرت اقدس کے صاحبزادہ ہیں۔ اور پہلے نمبر یں چودہ صفحوں کا ایک انٹروڈکشن ان کی قلم سے لکھا ہوا ہے۔ جماعت تو اس مضمون کو پڑھے گی۔ مگر میں اس مضمون کو مخالفین سلسلہ کے سامنے بطور ایک بین دلیل کے پیش کرتا ہوں۔ جو اس سلسلہ کی صداقت پر گواہ ہے۔ خلاصہ مضمون یہ ہے کہ جب دنیا میں فساد پیدا ہو جاتا ہے ۔ اور لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ کو چھوڑ کر معاصی میں بکثرت مبتلاء ہو جاتے ہیں۔ اور مردار دنیا پر گدھوں کی طرح گر جاتے ہیں۔ اور آخرت سے بالکل غافل ہو جاتے ہیں تو اس وقت میں ہمیشہ سے خدا تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ انہی لوگوں میں سے ایک نبی کو مامور کرتا ہے کہ وہ دنیا می پیچی تعلیم پھیلائے۔ اور لوگوں کو خدا کی حقیقی راہ دکھائے۔ پر لوگ جو معاصی میں بالکل اندھے ہوئے ہوتے ہیں وہ دنیا کے نشہ میں مخمور ہونے کی وجہ سے یا تو نبی کی باتوں پر مہنسی کرتے ہیں اور یا اسے دکھ دیتے ہیں اور اس کے ساتھیوں کو ایذائیں پہنچاتے ہیں اور اس سلسلہ کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔ مگر چونکہ وہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے اس لئے انسانی کوششوں سے ہلاک نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ نبی اس حالت میں اپنے مخالفین کو پیش از وقت اطلاع دے دیتا ہے کہ آخر کار وہی مغلوب ہوں گے اور بعض کو بلاک کر کے خدا دوسروں کو راہ راست پر لے آوے گا۔ سو ایسا ہی ہوتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو ہمیشہ سے چلی آئی ہے ایسا ہی اس وقت میں ہوا دریویر آن ریجنز مارچ ۱۹۰۶ م جلد نمبر صفحه ۱۷، ۱۸) یہ وہ ریویو ہے جو مولوی محمد علی صاحب نے میرے اس مضمون پر کیا ہے جو رسالہ تشخیذ الا ذبان کے انٹروڈکشن کے طور پر یکم مارچ ایہ جلد صہ میں حضرت مسیح موعود کی زندگی میں شائع ہوا تھا ۔ اب ہر ایک منصف مزاج انصاف و عدل کے ساتھ اس امر کا فیصلہ کرے کہ اگر نبوت کا عقیدہ ظہیر الدین نے گھڑا تھا۔ اور مرزا صاحب نبی نہیں تھے تو پہلا سوال تو یہ ہے کہ مجھے شانہ میں یہ کیونکر معلوم ہو گیا کہ مرزا صاحب نبی تھے اور میں نے اس امر پر اس قدر زور دیا کہ تشخیر الا زبان کے انٹرو ڈکشن کی بنیاد ہی اس بات پر رکھی کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جیسا کہ پہلے نبی آتے رہے ہیں اس وقت بھی اس کی طرف سے ایک نبی کا آنا ضروری ہے اور وہ نبی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔ مگر ہم اس امر کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ظہیر الدین سے اس وقت بھی میری ساز باز تھی اور اسی کے ایماء سے میں نے حضرت مسیح موعود کو نبی لکھ دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ میرے اس مضمون پر تعریفی رنگ میں مولوی محمد علی صاحب جیسے تجربہ کار محرر نے جو اس وقت جماعت کی اصلاح کے واحد ٹھیکیدار بن رہے ہیں۔ تعریفی رنگ میں ریویو کیونکر لکھ دیا میں نے اپنے مضمون میں صاف طور پر