انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 107

انوار العلوم جلد 4 ۱۰۷ آئینہ صداقت جو مولوی صاحب نے لکھی ہے۔ در حقیقت کوئی علیحدہ پیشگوئی نہیں بلکہ قرآن کریم کی ایک پیش گوئی کی تشریح ہے سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی ہے : اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّين - اے خدا ہمیں سیدھے راستہ پر چلا ۔ ان لوگوں کے راستہ پر جن پر تیرا انعام ہوا ۔ اور الیسا نہ ہو کہ ہم انعام پانے کے بعد منضوب علیہم یا ضال بن جاویں ۔ اس جگہ مسلمانوں کے لئے تین آئندہ کی خبریں بتائی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان میں سبھی ایسے لوگ ہوں گے جو خدا تعالیٰ کے اعلیٰ سے اعلیٰ انعام پاویں گے حتی کہ نبی ہو جائیں گے ۔ اور اسی طرح ان میں سے بعض مغضوب علیہم ہو جاویں گے اور بعض ضال مغضوب علیہم اور ضال کی تشریح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمائی کہ مغضوب علیم سے مراد یہود اور ضالین سے مراد نصاری ہیں ۔ چنانچہ ترندی میں عدی ابن حاتم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ الْيَهُودُ مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ وَإِنَّ النَّصَارَى ضَلَالٍ * یعنی یہود مغضوب علیہم ہیں اور نصاریٰ خالی ہیں ۔ پس خود آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم نے مغضوب علیہم اور ضالین کی تشریح کر کے بتا دیا ہے کہ سورہ فاتحہ میں یہود و نصاری بننے سے بچنے کے لئے دعا سکھائی گئی ہے۔ پیپس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا ک تم پہلے لوگوں کے طریق اختیار کرو گے اور صحابہؓ کے سوال کرنے پر کہ کیا یہود و نصاری کا رنگ ہم اختیار کریں گے ۔ آپ کا فرمانا " اور کن کا تو کوئی نئی خبر نہیں۔ بلکہ اسی پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے۔ جو سورہ فاتحہ میں مذکور ہے ۔ اب ہم پہلے تو اس پیشگوئی کے وہ معنے دیکھتے ہیں جو خود حضرت مسیح موعود نے کئے ہیں۔ کیونکہ جس کے زمانہ کی خبر اس پیشگوئی میں دی گئی ہے وہی اس کا مطلب بہتر سمجھ سکتا ہے۔ پھر ہم عقلاً بھی اس حدیث پر غور کریں گے ۔ حضرت مسیح موعود فرقه مغضوب وضالین کی تشریح مسیح موعود کے الفاظ میں علیہ الصلوۃ و السلام اپنی " کتاب تحفہ گولڑویہ کے صفحہ ۷۳ پر فرماتے ہیں ۔ صرف دو فتنوں کا ذکر کیا ۔ ایک اندرونی یعنی مسیح موعود کو سیوریوں کی طرح ایذاء دینا۔ دوسرے عیسائی مذہب اختیار کرنا ۔ یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ سورہ فاتحہ میں صرف دو فتنوں سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی گئی ہے ۔ (1) اول یہ فتنہ کہ اسلام کے میں صرف دو سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی ہے ۔ (1) اول یہ فتنہ کی اسلام مسیح موعود کو کافر قرار دیا، اس کی توہین کرنا اس کی ذاتیات میں نقص نکالنے کی کوشش کرنا اس کے قتل کا فتویٰ دینا جیسا کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں انہی باتوں کی طرف اشارہ ہے (۲) دوسرے نصاری کے فتنے سے بچنے کے لئے دُعا سکھلائی گئی ۔ اور سورۃ کو اسی کے ذکر پر ختم کر کے اشارہ کیا گیا ہے کہ فتنہ نصاری ایک سیل عظیم کی طرح ہو گا ۔ اس سے بڑھ کر کوئی ترمذى البواب التفسير باب ما جاء في الذي يفسر القرآن برأيه بخارى كتاب الاعتصام باب قول النبي للتبعن سنن من كان قبلكم