انوارالعلوم (جلد 6) — Page 106
انوار العلوم جلد 4 104 آئینه صداقت جانا کہ ان ضروری باتوں کے سوا تم پر اور کچھ بوجھ نہ ڈالیں کہ تم بتوں کے چڑھاؤں اور لہو اور گلا گھونٹی ہوئی چیزوں اور حرام کاری سے پر ہیز کرو۔ اگر تم ان چیزوں سے آپ کو بچائے رکھو گے تو خوب کرو گے سلامت رہو۔ (اعمال باب ۱۵ - آیات ۲۳ تا ۳۰ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء ) اب آپ لوگ دیکھیں کہ کیا یہی طریق اور رویہ آپ لوگوں نے اختیار نہیں کیا ؟ ایک طرف تو آپ غیر احمدیوں کو خوش کرنے کے لئے اور اپنے ساتھ ملانے کے لئے حضرت مسیح موعود کے ذکر کو اسلام کے لئے مضر بتا رہے ہیں۔ اور دوسری طرف غیر مذاہب کے لوگوں کو قابو میں لانے کے لئے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ گھٹانے سے بھی پر ہیز نہیں کرتے۔ چنانچہ خواجہ صاحب نے خود اقرار کیا ہے کہ ایک شخص نے مجھے لکھا کہ اور تو تماری باتیں اچھی ہیں مگر سول کریم صلی اللہ علیہ سل کوجو تم ہی سے افضل کہتے ہو یہ بات اچھی نہیں اور یہ بات ہمارے راستہ میں روگ بھی ہوگی ۔ اس پر میں نے اسے لکھ بھیجا کہ یہ آپ کا غلط خیال ہے ۔ ہمیں تو یہ حکم ہے کہ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ (البقرة : ١٣٤) ہم تو کسی نبی کو دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے ۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں جو انہوں نے اس شخص کو سمجھانا چاہا اور صرف ایک شخص کو اسلام کی طرف راغب کرنے اور اپنی تعداد بڑھانے کی خاطر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہننگ کی اور پھر عملاً چھٹکے کا گوشت کھا کہ شریعت کے حکم کو وسیع کر لیا اور غیر احمدیوں کے پیچھے ولایت میں نماز کی اجازت توڑ مروڑ کر حضرت خلیفہ اول سے حاصل کی اور بہت سی باتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر قوموں کو خوش کرنے کے لئے جہاں تک بھی اسلام کی تعلیم کو وہ توڑ سکتے تھے انہوں نے توڑا ۔ پھر کیا سیمیوں سے آپ کو کامل مشابہت ہوئی یا نہیں ۔ فتند بردا يا اولى الانصاء مولوی ی محمد علی صاحب کا حدیث مشابہت مولوی صاحب نے اپنی تائید میں ایک حدیث بھی یہود و نصاری سے غلط نتیجہ نکالا پیش کی ہے جس کا یہ فون ہے کہ مان بھی بود ہے مضمون و نصاری کی پیروی کریں گے اور اس سے یہ نتیجہ 2 نکالا ہے کہ مسیح کا انکار کر کے وہ یہود تو ہو گئے ۔ اب نصاری بننے کے لئے ان کو نصاری کا رنگ بھی اختیار کرنا چاہئے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد آپ کی جماعت کا ایک بڑا حصہ آپ کے درجہ میں غلو کرنے لگا لیکن گو ایک رنگ میں بوجہ مسیح سے مشابہت رکھنے کے حضرت مسیح موعود کی جماعت میں سے بھی بعض لوگ مسیحیوں سے مشابہ ہوئے ۔ مگر اس حدیث کا یہ مطلب نہ تھا بلکہ حضرت مسیح موعود نے بیان فرمایا ہے سیو د بننے سے مراد مسیح کا انکار تھا اور ضال بننے سے فی الواقع عیسائی ہو جانا۔ یہ حدیث