انوارالعلوم (جلد 6) — Page 92
انوار العلوم جلد 4 ۹۲ آئینه صداقت مخاطب کر کے فرماتا ہے " میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پا کروں گا حفہ د استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ - برٹش اینڈ فارن یا ئبل سوسائٹی انار کلی لاہور ۹۲ ) اور اس سے مشابہ رسول کریم ملالہ علہ سلم کی اور پس آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم مستی کے مشیل الہ کمی حضرت موسی کی کامیا ہوں کا مقابلہ تھے مگر ہم دیکھتےہیں کہ جہاں آپ تھے۔ مگر کہ کو حضرت موسی سے بہت سی مشابہتیں ہیں۔ وہاں آپ کی کامیابیاں حضرت موسی ہیں۔ کی سے بہت بڑھی ہوئی ہیں ۔ حضرت موسی سے بھی ایک وعدہ کیا گیا تھا کہ کنعان کی زمین ان کو دی جاوے گی ۔ تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے ان کے ٹھہرنے کا مقام ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی ایک وعدہ دیا گیا تھا که حرم (حوالی کہ ) کی سرزمین ان کو دی جاوے گی ۔ تا ہمیشہ کے لئے ان کے ٹھہرنے کا مقام ہو۔ مگر حضرت موسی جب اس ملک کے فتح کرنے کے لئے چلے تو باوجود اس کے کہ ان کی قوم نے ان سے پوری مدد کا وعدہ کیا تھا عین موقع پر انہوں نے موسیٰ کو یہ جواب دیا کہ مُوسَى إِنَّا لَنْ تَدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوا فِيهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هُهُنَا تُعِدُونَ (المائدة : ٢٥ ) یعنی اسے موسیٰ ہم اس زمین میں کبھی داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اس میں اس کے پہلے قابض لوگ موجود ہیں ۔ پس تو اور تیرا رب جاؤ اور ان سے جا کر لڑو ۔ ہم تو یہ بیٹھے ہیں حتی کہ حضرت موسی کے ساتھ صرف چند آدمی رہ گئے اور لڑائی کا ارادہ چھوڑنا پڑا ۔ اس کے مقابلہ میں ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ کا انصار سے یہ معاہدہ تھا کہ صرف اس وقت کہ ہم پر مدینہ میں کوئی حملہ آور ہو تمہارا فرض ہو گا کہ تم ہماری مدد کرو۔ اور یہ معاہدہ بیعت عقبہ کے وقت جو انصار سے آپ نے ہجرت کرنے سے پہلے مکہ مکرمہ میں لی تھی کیا تھا ۔ چنانچہ مشہور مؤرخ ابن ہشام لکھتا ہے کہ انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کیا تھا کہ یا رسول الله إِنَّا بُرَاءُ مِنْ دِمَامِكَ حَتَّى تَصِلَ إِلَى دِيَارِنَا فَإِذَا وَصَلْتَ إِلَيْنَا فَانْتَ فِي ذِمَّتِنَا نَمْنَعُكَ مِمَّا نَسْمَعُ مِنْهُ ابْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا - یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر ہم آپ کی حفاظت کے ذمہ دار نہیں ۔ ہاں مدینہ پہنچ کر ہم آپ کے ذمہ دار ہیں ۔ ہم جن باتوں سے اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بچاتے ہیں آپ کو بھی بچا بچائیں گے۔ یعنی جس طرح اپنی جانیں دے کر ہم اپنی اولاد اور بیویوں کو قید اور قتل ہونے سے بچاتے ہیں آپ کو بھی بچائیں گے پس جب بدر کی جنگ ہوئی اور آپ نے ارادہ کیا یا کہ دشمن کو روکنے کے لئے ہم آگے نکل کر اس کا مقابلہ کریں تو لکھا ہے : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّفُ أَنْ لَا تَكُونَ الأَنْصَارُ تَرَى عَلَيْهَا نَصْرَهُ إِلَّا مِمَّنْ دَهَمَهُ بِالْمَدِينَةِ اپنی