انوارالعلوم (جلد 6) — Page 93
انوار العلوم جلد 4 ۹۳ ابینه صداقت مِنْ عَدُدِهِ وَ أَنَّ لَيْسَ عَلَيْهِمْ أَنْ يَسِيرَ بِهِمْ إِلَى عَدُةٍ مِنْ بِلَا دِهِمْ فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ سَعَدُ بْنُ مَعَادٍ وَاللَّهِ لَكَأَنَّكَ تُرِيدُ نَا يَارَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَجَلْ قَالَ فَقَدْ مَنَّا بِكَ وَصَدَّقْنَاكَ وَشَهِدْنَا أَنَّ مَا جِئْتَ بِهِ هُوَ الْحَقُّ وَاعْطَيْنَاكَ عَلَى ذلِكَ عُهُودَنَا وَمَوَاثِيقَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَامْضِ يَا رَسُولَ اللهِ لِمَا أَرَدْتَ فَنَحْنُ مَعَكَ فَوَ الَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوِ اسْتَعْرَضْتَ بنَا هَذَا الْبَحْرَ نَخُضْتَهُ لَخُضْنَاهُ مَعَكَ مَا تَخَلَّفَ مِنَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ وَمَا نَكَرَهُ أَنْ تَلْقَى بِنَا عَدُونَا غَدًا إِنَّا لَصُبُرُ فِي الْحَرْبِ صُدُقُ فِي الْبَقَاءِ لَعَلَّ اللَّهَ يُرِيكَ مِنَّا مَا تَقِرُّ بِهِ عَيْنُكَ فَوْبِنَا عَلَى بَرَكَةِ اللهِ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوف کرتے تھے کہ کہیں انصار یہ خیال نہ کرتے ہوں کہ ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد صرف اسی وقت فرض ہے جب کوئی دشمن مدینہ پر حملہ آور ہو رحملہ آور ہو اور یہ کہ ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کا حق نہیں جبکہ آپ ان کو ان کے علاقہ سے باہر کسی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے لے جانا چاہیں۔ پس جب آپؐ نے کہا لوگو ! تمہارا کیا مشورہ ہے ؟ تو سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم تو آپ پر ایمان لا چکے ہیں اور آپ کی تصدیق کر چکے ہیں اور اس بات کی گواہی دے چکے ہیں کہ آپ جو کچھ لائے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اسی وجہ سے ہم نے آپ سے پختہ عہد اور اقرار کئے ہیں کہ ہم آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں گے۔ پس یا رسول اللہ چلئے ۔ جدھر چلتے ہیں ۔ ہم آپ کے ساتھ ہونگے۔ اور اسی خدا کی قسم جس نے آپ کو سچی تعلیم دے کر بھیجا ہے اگر آپ ہم کو اس سمندر کی طرف لے جاویں بحیرہ امر کی طرف اشارہ ہے جو عرب کے ساحل پر ہے، اور اس کے اندر داخل ہو جاویں تو ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔ اور ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہ رہے گا اور ہم اس بات کو نا پسند نہیں کرتے کہ آپ ہمیں لے کر کل ہی دشمنوں کا مقابلہ کریں ۔ ہم لڑائی میں صابر اور جنگ میں ثابت قدم ہیں ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ جنگ میں ہم سے وہ بات دیکھیں گے جو آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریگی پس چلئے خدا تعالیٰ کی برکت کے ساتھ یا رسول الله - صلی ۔ رسول کریم میں اسلام کے صحابہ اور حضرت اس جواب اور اس جواب کا جو حضرت موسی کی مولتی کے ساتھیوں کے جواب میں فرق موم نے باو جود وعدہ درد کر دیا تھا مقابلہ کرو اور دیکھو کہ کیا ان دونوں جماعتوں سے زیادہ کوئی اور دو قومیں متفاوت الحالات معلوم ہوتی ہیں مگر اس جواب سے بھی زیادہ عجیب جواب وہ سیرت ابن ہشام عربی جلد ۲ صفحه ۲۶۷/۲۶۶ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء