انوارالعلوم (جلد 6) — Page 91
انوار العلوم جلد 4 91 آئینه صداقت اور ان اعتقادات کا رکھنے والا متقی نہیں ہو سکتا اور اس تحریر کے بعد برا بر ہر ایک تحریر میں وہ سختی سے اور اسی کام لیتے رہے ہیں اور میرا نام بھی ایسی حقارت سے لکھتے رہتے ہیں کہ شرفاء میں ایک دوسرے کا ذکر اس طرح جائز نہیں سمجھا جاتا ۔ گو اس کتاب میں لفظاً انہوں نے ایسی سختی نہیں کی مگر ضال اور مضل اور اس قسم کے خطاب مجھے ضرور دیتے ہیں جیسا کہ ہر ایک پڑھنے والے پر روشن ہوگا اور میرا نام نہ معلوم ضرور دیے والے پر روشن ہوگا اور میرا کی نسبت سے سے ایم حمود کر کے بھتے ایم محمود کر کے لکھتے رہے ہیں۔ مگر میں نے جیسا کہ پہلے شرافت کا لحاظ رکھا ہے اب بھی رکھوں گا ۔ اور گو ان کی روز افزوں سختی کے جواب میں زیادہ زور دار الفاظ استعمال کرنے ضروری معلوم ہوتے ہیں مگر میں پسند نہیں کرتا کہ انسی کے رنگ میں چل کرئیں آداب کلام کو بھی چھوڑ دوں ۔ سلسلہ احمدیہ اور سلسلہ سیمیہ کی مماثلت مولوی محمد علی صاحب کے اس طریق تحریر کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب میں ان کی کتاب کے جواب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں :- مولوی محمد علی صاحب شروع کتاب میں ہی تحریر فرماتے ہیں کہ چونکہ سلسلہ احمدیہ سلسلہ مسیحیہ کا مثیل ہے اس لئے ضرور تھا کہ اس میں بھی ایک فریق غلو سے کام لیتا اور حق کو چھوڑ دیتا اور اس پر انہوں نے خاص طور پر زور دیا ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ صرف اسی مشابہت سے ہی ہمارے اور ان کے درمیان تین فیصلہ ہو جاتا ہے مگر مولوی محمد علی صاحب شاید یہ بات نہیں سمجھتے کہ مشاہت سے ہر ایک امر میں مشابہت ہونی ضروری نہیں ۔ بلکہ شیل کبھی اس سے جس کا وہ مثیل ہوتا ہے درجہ اور کامیابی میں بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ الله سول کریم شی سید اور حضرت مولی کی مماثلت حضرت میں موعود صرف ایک ہی مشیل مسیح الله ه نہیں ہیں بلکہ آپ کے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک نبی کے مثیل ہیں یعنی حضرت موسیٰ کے۔ مگر باوجود اس کے آپ کے صحابہ کے ساتھ اسی رنگ میں معاملہ نہیں ہوا جس رنگ میں کہ حضرت موسی کے صحابہ سے۔ اور نہ آپ کے صحابہ میں ہوا میں کے صحابہ سے۔ اور نے حضرت موسی کے صحابہ کا سا نمونہ دکھایا ۔ اللہ تعالیٰ خود قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مثیل موسٹی ہونا ان الفاظ میں بیان کرتا ہے ۔ اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أرسلنا إلى فِرْعَوْنَ رَسُولاً (المرتل : ۱۶) ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر نگران ہے جس طرح کہ ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا ۔ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو حضرت موسی کا مثیل اور مشابہ قرار دیا ہے ۔ توریت بھی یہی کہتی ہے ۔ خدا تعالیٰ حضرت موسی کو