انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 42

انوار العلوم جلد ۵ سخت ہنگ ہوتی ہے تو وہ کبھی اسے اختیار نہ کرتے۔ صداقت احمدیت معیار سچائی حضرت اقدس اس وقت ہم میں انسان کی صداقت پر غور کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا دو مراد علوی یہ ہے کہ امت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح کے لئے آپ ہی کی اُمت سے کوئی انسان پیدا ہونا چاہتے کیونکہ دوسرے سے مدد مانگنے سے ہتک ہوا کرتی ہے۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی اصلاح کے لئے حضرت علیستی آئیں تو اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے یا نہیں۔ کچھ عرصہ ہوا میں نے اخبار میں ایک مضمون پڑھا تھا جس کا مجھ پر بڑا اثر ہوا - عمان ایک پرانی ریاست ہے وہاں جب بغاوت ہوئی تو ہندوستان سے تار دیا گیا کہ اگر ضرورت ہو تو ہم مدد دیں ۔ اس کے جواب میں سلطان نے کہا۔ جب تک ہم میں جان ہے آپ کی مدد کی ضرورت نہیں ۔ تو جب تک کسی میں طاقت ہوتی ہے اس وقت تک دوسرے سے سے کوئی مدد کی درخواست نہیں کرتا اور نہ دوسرے سے مددا مدد لینا چاہتا ہے ۔ اب یہ صاف بات ہے کہ حضرت عیسی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل نہیں ہیں بلکہ حضرت موسی کی قوم میں سے ہیں اور انہی کی قوم کی تربیت کے لئے آئے تھے چنانچہ انہوں نے خود کہا ہے کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیٹروں کی طرف بھیجا گیا ہوں ۔ ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں فساد پیدا ہو گا تو ان کو صلاح کے لئے بھیجا جائے گا۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی امداد کا محتاج بنا ئیگا ، لیکن کیا وہ مقدس انسان جس نے دنیا کو نور سے بھر دیا اور وہ سخی مرد جس نے اپنے خزانوں کے درواز سے اس قدر فراخ کر دیتے کہ دنیا مالا مال ہو گئی اس کے ہاتھ میں (نعوذ باللہ ) بھیک کا ٹھیکرا دیا اس کی ہتک کرنا نہیں ؟ خدا تعالیٰ تو اس کو یہ فرماتے کہ داما السَّائِلَ فَلَا تَشْهَرُ (الضحى :11 ) ہم نے تجھے وہ نعمت دی ہے اور تم پر وہ انعام کہتے ہیں کہ جو کوئی بھی تم سے مانگنے آتے اس کے سوال کو رو نہ کرو۔ تیرے پاس تو اتنی دولت ہے وَ أَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ ( الضحی : ١٢) کہ تو علی الاعلان پکار پکار کر لوگوں کو کہ کہ آو اور مجھ سے لو۔ ایک تو وہ سخی ہوتا ہے کہ جو اس سے مانگتا ہے اس کو رد نہیں کرتا۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اتنی بڑھی ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تیرا خزانہ اتنا وسیع ہے کہ تو جگہ بہ جگہ پھر اور شور مچا کہ آؤ مجھ سے لے لو اور یہی نہیں کہ جو سائل تیرے پاس آئے اسے تو دے بلکہ خود سائلوں کو تلاش کر کے دیے ۔ تو اس عظمت اور شان والا انسان جس کے سپرد خدا تعالیٰ نے نور اور معرفت کے خزانے کر دیتے اس کا بنی اسرائیل کے نبی کو بلا کر لانا کہ آو میری امت عت متی باب ۱۵ آیت ۲۴ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء