انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 43

انوار العلوم جلد ۵ الله الله صداقت احمدیت میں فتنہ پڑ گیا ہے اس کو دور کر دو کہاں تک اس کی شان کے شایاں ہے۔ اگر واقع میں ایسا ہو تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ قیامت کے دان رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم حضرت عیسٹی کے سامنے کیونکر آنکھ اُٹھا سکتے ہیں۔ کیونکہ جب کہ ایمان ثریا پر چلا گیا قرآن کو لوگوں نے چھوڑ دیا ۔ دشمنوں نے اسلام کو مٹانے کے لئے کریں باندھ لیں۔ اس وقت آپ کی قدرت قدسیہ باطل ہوگئی اور آپ کو دوسرے به کے گھر سے دیا روشن کرنا پڑا اور دوسرے کی امداد نے آپ کی امت کو بچایا اس سے زیادہ افسوس اور رنج کی بات کون سی ہو گی اور اس سے زیادہ اور کیا محمد صل اللہ علیہ وسلم پر ظلم ہو گا ۔ اس بات کو سامنے رکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاہ سے افضل ہیں۔ ماننا پڑے گا کہ یہ بالکل غلط ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی اصلاح کے لئے بنی اسرائیل سے کسی عیسی کو لانے کی ضرورت پیش آتے گی۔ بلکہ صحیح اور سچی بات یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ ہی خود عیسی کو پیدا کرے گی ۔ آپ کا روحانی فیض اور آپ کی تعلیم ایسے آدمی کھڑے کرے گی جو آپ کی امت کی اصلاح کریں گے۔ اب جبکہ ان دونوں باتوں کا فیصلہ ہو گیا کہ حضرت علیشی اجراء نبوت کی حقیقت فوت ہو گئے ہیں اور امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے اس است ہو گئے ہیں اور امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے اس کہتے سے عیسی کھڑا ہوگا تو کہا جا سکتا ہے کہ ان باتوں کو تو مان لیا لیکن خدا کی طرف سے آنے کا جو شخص دعوی کرتا ہے وہ تو کہتا ہے کہ میں نبی ہوں ۔ کیا اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنگ نہیں ہوتی ہے ؟ اس سے بھی تو ہتک ہوتی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی آتے۔ اس بات پر بھی ہم اسی طرح نظر ڈالتے ہیں کہ آیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا آنا آپ کی ہتک ہے یا عزت یہ تو ظاہر ہے کہ جو رسول شریعت لاتے ہیں ان کی شریعت کو وہی نبی اکر مٹا سکتا ہے جو ان سے بڑا ہو ۔ اب اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ نبی کریم کے بعد کوئی ایسا نبی آسکتا ہے جو اس کی شریعت کو مٹا دے تو اس سے نبی کریم کی بہت بڑی ہتک ہو گی کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہو گا کہ آپ جو تعلیم لاتے وہ چونکہ قابل عمل نہیں رہی اس لئے اس کو بدلنے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ کیونکہ کوئی عمارت اسی وقت گرائی جاتی ہے جبکہ بوسیدہ ہو جائے یا حسب منشاء استعمال کے قابل نہ رہے ۔ اسی طرح شریعت محمد یہ اسی صورت میں منسوخ ہو سکتی ہے کہ یا تو ناقص ہو جاتے یا موجودہ زمانہ کے قابل نہ رہے ۔ اب اگر کوئی یہ خیال رکھتا ہے تو رسول کریم ہے تو صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہنگ کرتا ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ خیال کرے کہ با وجود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت