انوارالعلوم (جلد 5) — Page 41
انوار العلوم جلده ۴۱ صداقت احمدیت عام لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ کیا خدا تعالیٰ حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ رکھنے پر قادر نہیں ہم کہتے ہیں قادر ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس کی کوئی قدرت ظاہر کسی طرح ہوتی ہے۔ اس کی قدرت یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت ظاہر کرے پھر اس کے خلاف کسی طرح ہو سکتا ہے ۔ لیکن میں کہتا ہوں خدا تعالیٰ کا قانون قدرت بھی حضرت عیسی علیہ السلام کو اس طرح سنبھال کر رکھنے کے خلاف ہے ۔ دیکھو ایک غریب آدمی اپنے کپڑوں کو خواہ کتنے پرانے ہوں سنبھال کر رکھتا ہے تاکہ وہ پھر کام آئیں۔ لیکن امیر اپنے پرانے کپڑے اور لوگوں کو دے دیتا ہے ۔ اسی طرح غریب انسان ایک دفعہ کا پکا ہوا کھانا سنبھال کر رکھتا ہے کہ پھر کھالوں گا۔ لیکن امیرالیا نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جب بھوک لگے گی اس وقت پھر تازہ پکوالوں گا ۔ اب حضرت عیسی کو سنبھال کر رکھنے کا یہ مطلب ہوا کہ خدا سے اتفاقاً حضرت عیسی ایک اعلیٰ درجہ کے نبی بن گئے تھے اور پھر وہ ایسا نبی نہیں بنا سکتا تھا اس لئے ان کو سنبھال کر زندہ آسمان پر رکھ دیا کہ جب دنیا میں فتنہ و فساد پھیلے گا تو ان کو بھیج دونگا پہلے تو میں نے بتایا ہے کہ حضرت عیسی کو زندہ ماننے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتک استان ہے اب اس سے ظاہر ہے کہ ان کو زندہ ماننے والے خدا تعالیٰ کی ہنگ تک بھی پہنچ گئے کسی نے کہا ہے ۔ 6 زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا اس طرح حضرت شیخ کو زندہ مان کر خدا تعالیٰ پر حملہ کر دیا عقیدہ حیات مسیح کی ابتداء گیا۔ ہم کہتے ہیں کیا وہ خدا جس نے حضرت علی کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم الشان نبی پیدا کیا وہ پھر حضرت عیسی جیسا نبی نہیں پیدا کر سکتا تھا؟ ضرور پیدا کر سکتا تھا میں اس کو ضرورت نہ تھی کہ حضرت عیسی کو زندہ رکھ کر اپنی قدرت پر حرف آنے دیتا ۔ غرض حضرت عیسی کی حیات کا عقیدہ نہ صرف اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی بھی ہتک کرنے والا ہے اور اس کی بنیاد اس وقت پڑی جبکہ مسلمانوں میں عیسائی شامل ہونے لگے ۔ ان کی وجہ سے مسلمانوں میں بھی یہ عقیدہ داخل ہو گیا۔ ورنہ کئی بڑے بڑے بزرگوں کا یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسی فوت ہو گتے ہیں ۔ تو غلطی میں آکر مسلمانوں نے یہ عقیدہ اختیار کر لیا ورنہ مجھے خیال بھی نہیں آتا کہ کوئی مسلمان جان بوجھ کر ایسا عقیدہ رکھتا ۔ دراصل انہوں نے اس طرف خیال ہی نہیں کیا کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا ۔ اگر انہیں علم ہوتا کہ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی