انوارالعلوم (جلد 5) — Page 32
انوار العلوم جلد ۵ ۳۲ صداقت احمدیت ایک واقعہ حضرت علی علیہ السلام ان کے بعد ہم حضرت مینی کی طرف آن آتے ہیں ۔ وہ آئے اور انہوں نے لوگوں کی اصلاح کی اور دنیا میں آئے جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے۔ مگر اس وقت ہمیں مقابلہ کر کے یہ دیکھنا ہے کہ ان کا کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کیسا تھا ۔ ان کی جماعت میں بھی یہی نظر آتا ہے کہ جب دشمن نے حضرت عیسی کو پکڑنا چاہا تو اس وقت ان کے بڑے حواری سے جس کو انہوں نے اپنی جماعت کا امام بنایا ہوا تھا جب پوچھا گیا کہ تو علی کو جانتا ہے۔ تو اس نے یہ دیکھ کر کہ میں بھی پکڑا جاؤنگا کہا کہ میں تو اس پر لعنت کرتا ہوں دمتی باب ۲۶ آیت ۴ سے برٹش اینڈ فارن بائیل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء) تو بجائے اس کے کہ وہ اس وقت یہ کہنا کہ ہاں میں اسے جانتا ہوں جو اس کا حال ہو گا وہی میرا ہو گا وہ کہتا ہے کہ میں اسے جانتا ہی نہیں اور پھر اس پر بس نہیں کرتا بلکہ لعنت کرتا ہے ۔ ایک واقعہ نبی اکرم صل السلام ان واقعات کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیار کردہ جماعت کو دیکھتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وطن بکہ کو چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کرتے ہیں اور مدینہ آکر مدینہ والوں کے ساتھ یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ اگر دشمن مدینہ پر حملہ کرے گا تو مدینہ والے اس کے مقابلہ میں لڑیں گے اور اگر باہر جا کر لڑنا پڑا تو ان پر کرنا فرض نہ ہو گا لیکن جب اُحد کی لڑائی کا وقت آیا اور دشمن نے مدینہ پر حملہ کرنا چاہا تو صحابہ میں مشورہ ہوا اور یہ قرار پایا کہ مدینہ سے باہر نکل کر لڑیں تاکہ لڑائی کے لیے کھلا میدان مل جاتے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ دشمن کی تعداد اتنی کثیر تھی کہ مسلمان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔ دشمن کے پاس تین ہزار تجربہ کار سپاہی تھے اور مسلمانوں کے صرف ایک ہزار آدمی تھے جن میں سے اکثر لڑائی سے ناواقف تھے ۔ کیونکہ مدینہ کے لوگ لڑائی کرنا نہ جانتے تھے ۔ وہ زمینداری وہ زمینداری اور زراعت میں مصروف میں مصروف رہتے تھے اور جس طرح ہمارے ملک میں رواج ہے کہ غلطی سے پیشوں کی وجہ سے لوگوں کو حقیر سمجھا جاتا ہے اسی طرح ان کو حقیر سمجھا جاتا تھا اور ان کے متعلق کہا جاتا تھا کہ یہ کیا لڑیں گے ۔ یہ لوگ بھی اس ایک ہزار کی تعداد میں شامل تھے پھر اس میں تین سو لوگ ایسے تھے جو منافق تھے اور جن کو سب مسلمان جانتے تھے کہ ہمیں گالیاں دیتے اور برا بھلا کہتے ہیں۔ اس لئے مسلمان سمجھتے تھے کہ ہماری تعداد دشمن کے مقابلہ میں بہت تھوڑی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ مشورہ دو باہر جا کر دشمن کا مقابلہ کریں یا اندر سے ہی۔ آخر فیصلہ ہوا کہ باہر جا کر مقابلہ کرنا چاہتے آپ نے بدر کے موقع پر بھی فرمایا تھا کہ ہاں مشورہ دو جس سے آپ کا مطلب یہ تھا کہ انصار بولیں کہ ان کا کیا ارادہ ہے کیونکہ ان سے معاہدہ