انوارالعلوم (جلد 5) — Page 33
انوار العلوم جلد ۵ ٣٣ صداقت احمدیت تھا کہ اگر باہر جاکر دشمن کا مقابلہ کرنا پڑا تو وہ نہ جائیں گے ۔ اس پر ایک انصاری اُٹھا اور اس نے کہا ۔ یا رسول اللہ کیا آپ کا یہ مطلب ہے کہ ہم بولیں ہم نے جب آپ کو خُدا کا رسول مان لیا تو اب کیا ہے اگر آپ ہمیں کہیں گے کہ سمندر میں گھوڑے ڈال دو تو ہم ڈال دیں گئے ہم موٹی کی جماعت کی طرح نہ کہیں گے کہ جاتو اور تیرا دا جا کر لڑو بلکہ جب تک دشمن ہماری لاشوں کو روند کر آپ تک نہیں آئے گا ہم اسے نہیں آنے دیں گے۔ ) سیرت این شام عربی جلد ۲ ص ۲۳ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ ء ) محمد وسلم پھل ما بہ الامتیاز کی بین شہادت یہ تھا ہی حا صل للہ علی کل کی تعلیم کا وہ درخت اپنے پیل اور اور سے پہچانا جاتا ہے ۔ اب دیکھ لوکس کے پھل اعلیٰ ہیں۔ آیا موسی کے جنہوں نے کہہ دیا تھا کہ تو اور تیرا خُدا جا کر لڑو ہم نہیں جائیں گے یا عیسی کے جس کے خاص حواری نے ان پر لعنت کی تھی۔ یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جنہوں نے با وجود باہر جا کر نہ لڑنے کا معاہدہ کیا ہوا تھا یہ کہا کہ اگر دشمن آپ تک پہنچے گا تو ہماری لاشوں کو روند کر ہی پہنچے گا۔ جیتے جی ہم اسے آپ تک نہ آنے دیں گے ۔ کوئی کہ سکتا ہے جوش میں آکر لوگ اس طرح کہہ ہی دیا کرتے ہیں لیکن جب مصیبت آپڑتی ہے تب یہ جوش قائم نہیں رہتا۔ مگر انہوں نے یہ زبان سے ہی نہ کہا بلکہ لڑائی میں بھی گئے اور خدا تعالیٰ نے ان کے دعوے کو سچا کرنے کے لئے ایسے اسباب پیدا کر رسول کریم کر دیئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم دشمنکے نرغے میں گھر گئے اور ایسے خطر ناک طور پر گھر گئے کہ عام خبر مشہور ہوگئی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔ اس وقت ان لوگوں کی کیا حالت ہوتی اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک انصاری حضرت عمر سے جنہوں نے سر نیچے ڈالا ہوا تھا آکر پوچھتے ہیں کیا ہوا ؟ وہ کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ۔ یہ سن کر وہ انصاری کہتے ہیں اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے چلے گتے ہیں تو ہمارے یہاں رہنے کا کیا فائدہ - چلو ہم بھی چلیں اور لڑ کر مر جائیں۔ یہ کہہ کر وہ گئے اور لڑ کر مارے گئے اور اس سختی سے لڑے کہ جب ان کی لاش کو دیکھا گیا تو اس پر ستر زخم لگے ہوتے تھے پھر اور اخلاص کا نمونہ دیکھتے۔ جب دشمن تیر پر تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مار رہا تھا ۔ تو چند صحابہ آپؐ کے ارد گرد کھڑے ہو گئے جن کی پیٹھیں تیروں سے چھلنی ہو گئیں ۔ کسی نے ایک صحابی سے پوچھا جب تم پر تیر پڑتا تھا تو کیا تم اک بھی نہ کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا میں اف اس لئے نہ کرتا تھا کہ کہیں میرا حسیم نہ ہل جائے اور تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جا پڑے۔ یہ تو لڑنے والوں کا حال تھا جن کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ مرد بہادر اخلاص مستورات مومنین راہی کرتے ہیں۔ مگر یہ اخلاص مردوں تک ہی محدود نہ تھا بلکہ ۔ سیرت ابن ہشام عربی جلد ۲ ص ۲۳ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ ء : عه سیرت ابن ہشام عربی جلد ۳ مده مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء )