انوارالعلوم (جلد 5) — Page 31
انوار العلوم جلد ۵ ۳۱ صداقت احمدیت اور بھلائی میں سب سے بڑھ کر ثابت ہو تو خواہ دنیا کچھ کے اور کسی کو افضل ٹھہراتے دلائل اور ثبوت ہی پکار پکار کر کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے افضل ہیں اور کوئی نہیں جو ان کی شان کو پہنچ سکے ۔ اثرات تعلیم رسول و تعلی انبار اب ہم ان انبیاء علیہم السلام کی تعلیموں کے نتائج کا موٹا سا مقابلہ کرتے ہیں۔ حضرت موسی آتے اور انہوں نے بنی اسرائیل کو تبلیغ کی کسی قوم اور جماعت کی فرمانبرداری اور اطاعت کا پتہ مشکلات اور مصائب کے وقت ہی لگا کرتا ہے ۔ قصہ مشہور ہے کہ ایک پور بیا مر گیا اور اس کی بیوی نے ماتم شروع کیا کہ ہائے فلاں سے اس نے اتنا روپیہ لینا تھا وہ کون لے گا ایک دوسرا پور بیا بولا "اری ہم ۔ پھر اس نے کہا فلاں جائیداد کا کون ان با تیداد کا کون انتظام کرے گا اسی نے کہا "اری ہم “ اسی طرح کہتے کہتے جب اس نے یہ کہا کہ اس نے فلاں کا اتنا روپیہ دینا تھا وہ کون دے گا ؟ تو کہنے لگا میں ہی بولتا جاؤں کوئی اور بھی بولے گا یا نہیں۔ تو ایسے تو بہت لوگ ہوتے ہیں جو لینے اور فائدہ اُٹھانے کے وقت آگے بڑھتے ہیں لیکن مشکل کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اس لئے اصل قربانی اور محبت کا پتہ مشکلات کے وقت ہی لگتا ہے ۔ ایک واقعہ حضرت موسی علیہ السلام بائیں میں بھی مذکور ہے ۔ اس لئے جب کہ نہ مسلمان علیہ حضرت موسی کی جماع کا واقعہ قرآن میں آتا ہے اور اس کا انکار کرتے ہیں اور نہ عیسائی تو پھر اور کسی کو اس کا انکار کرنے کا کیا حق ہے ؟ واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسی کو ایک ایسی قوم سے مقابلہ آپڑا جو بڑی زبردست اور طاقتور تھی تو حضرت موسی نے اپنی قوم کو اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیاری کا حکم دیا ۔ مگر ان کی قوم نے یہ دیکھ کر کہ ہمارا دشمن بڑا طاقتور ہے کہا کہ اس سے ہم کس طرح مقابلہ کر سکتے ہیں۔ حضرت موسی نے کہا تم خدا کا نام لے کر چلو توسی خدا ہمیں مدد دے گا ۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا۔ اے موسیٰ ! ہم تو اس دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر گز نہ جائیں گے۔ تیرا خدا اور تو جا اور جا کر لڑو۔ بائیبل سے ثابت ہے کہ حضرت موسی کی جماعت کا ایک بہت قلیل حصہ مقابلہ کے لئے تیار ہوا اور باقی ساری کی ساری قوم پیچھے رہ گئی ۔ راستثناء باب ۱ آیت ۲۶ تا ۳۳ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انار کلی لاہو ر مطبوعہ ۱۹۱۲ء) اس سے ظاہر ہے کہ حضرت موسی کی جماعت کے اکثر حصہ کی حالت یہ ہوئی کہ اس نے ان کو کہ دیا کہ تو اور تیرا خدا جا کہ لڈو ہم نہیں جائیں گے ۔