انوارالعلوم (جلد 5) — Page 417
انوار العلوم جلد ۵ ۴۱۷ اصلاح نفس オリー بڑے منصوبے باندھتے رہتے ہیں حتی کہ دیسی حکام بھی جو ظاہر میں جا کر گورنمنٹ کے حامی ہونے کا دم جو ظاہر : بھرتے ہیں گھر میں آکر ہمیں گالیاں دیتے اور طرح طرح کی تکالیف پہنچاتے ہیں کہ ہم کیوں گورنمنٹ کے وفادار ہیں ؟ ؟ ہر محکمہ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو گورنمنٹ سے تنخواہیں پاتے ہیں اور گورنمنٹ کی وفاداری کے ہ تنخواہ پاتے ہیں اور کی دعویدار ہیں ۔ مگر ہماری جماعت سے اس لئے دشمنی کرتے ہیں کہ ہم کیوں گورنمنٹ کی وفاداری کہ ہم کرتے ہیں۔ ایسے لوگ محکمہ پولیس میں بھی ہیں مجسٹریٹ بھی ہیں پروفیسر بھی ہیں اور دیگر صیغوں میں بھی ہیں جو ہمارے متعلق شکائتیں کرتے رہتے ہیں کہ اصل میں یہی جماعت گورنمنٹ کی بد خواہ ہے ہیں جو ہمارے یہ حرکت اس لئے کرتے ہیں کہ گورنمنٹ ہمارے خلاف یہ خلاف کوئی ناروا کار روائی کرے اور ہے اور ہم اس وجہ سے گورنمنٹ سے بد دل ہو کر ان کے ساتھ مل جائیں ۔ مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ تم گورنمنٹ کی وفاداری اس لئے نہیں کرتے کہ ہمیں کوئی خاص رعایتیں حاصل ہیں یا ہم کوئی خاص فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں۔ بلکہ ہم تو اس لئے کرتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ہمیں یہی حکم ہے ۔ وہ یہ پس ہم گورنمنٹ کی وفاداری کسی فائدہ کی غرض سے نہیں کرتے اور نہ کسی رعایت کی وجہ سے کرتے ہیں اور نہ ہم اس کی ناراضگی سے ڈرتے ہیں ۔ ہم تو اس لئے اس کی وفاداری کرتے ہیں کہ اگر ہم ایسا نہ کریں گے تو خدا تعالیٰ ہم سے ناراض ہوگا۔ کیونکہ خدا نے حکام کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے ورنہ اگر یہ نہ ہوتا اور ہمیں خدا کی ناراضگی کا ڈر نہ ہوتا تو ہم بھی سیاست کے معاملات ہیں وہ راہ اختیار کر لیتے جسے خود گورنمنٹ بھی جائز قرار دیتی ہے ۔ ذرا سوچو تو سہی کہ گورنمنٹ ہمیں کیا دے رہی ہے اور کیا دے سکتی ہے ؟ جب کبھی ہماری جماعت کو کسی جگہ تکلیف پہنچی ہے اور ہم نے اور؟ گورنمنٹ کے آفیسروں کو توجہ دلائی ہے ۔ انہوں نے یہی کہہ دیا ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ تو گورنمنٹ نہیں کیا دے رہی ہے ؟ کہ اس کی وجہ سے ہم اس کے وفادار ہیں۔ دراصل ہمارا گورنمنٹ پر احسان ہے اس کا ہم پر کوئی احسان نہیں جس میں اور لوگ حصہ دار نہیں ہیں۔ اگر ہم ریل ڈاک نار وغیرہ سے فائدہ اُٹھاتے ہیں تو کیا مسٹر گاندھی ان سے فائدہ نہیں اُٹھا رہے ؟ اگر ہم گورنمنٹ کے قائم کردہ سکولوں اور کا لجوں میں پڑھتے ہیں تو کیا اور لوگ نہیں پڑھتے ؟ تار ، ڈاک ، دریل وغیرہ چیزوں سے فائدہ تو خونی اور ہم BOMB مارنے والے بھی اُٹھا رہے ہیں پھر ہم پرگورنمنٹ کا کون سا خاص احسان ہے کہ ہم اس کی خوشامد کریں ؟ کوئی بھی نہیں پیس دُنیا کی کوئی حکومت نہیں جو ہمارا سر اپنی طاقت اور قوت کے زور سے اپنے آگے جھکا سکے ۔ مؤمن کا سر کسی دنیاوی طاقت کے آگے کبھی نہیں جھک سکتا ۔ اگر