انوارالعلوم (جلد 5) — Page 418
انوار العلوم جلد ۵ ۴۱۸ اصلاح نفس جھکتا ہے تو خدا تعالیٰ کے حکم کے آگے ہی جھکتا ہے چونکہ ہمیں خداتعالی کا حکم ہے کہ جس حکومت میں رہیں ہیں میں امن قائم رکھیں اور فتنہ نہ پھیلا نہیں اس لئے ہم گورنمنٹ کی وفاداری کرتے ہیں نہ کہ گورنمنٹ سے کوئی فائدہ اور نفع حاصل کرنے کی غرض سے ۔ اگر ہیں گورنمنٹ دکھ بھی دے گی تو پھر بھی ہم وفاداری ہی کریں گے۔ اور جب تک اس کے علاقہ میں رہیں گے فتنہ و فساد کی طرف قدم نہ اٹھائیں گے خواہ وہ ہم پر ظلم ہی کیوں نہ کرے اور ہمیں دکھ ہی کیوں نہ دے ۔ اگر ایسی حالت ہو جائے کہ ہمارا اس کے علاقہ میں رہنا مشکل ہو جائے تو بھی ہم ملک میں فساد نہیں کریں گے بلکہ اس کے ملک کو چھوڑ کر کسی اور ملک میں چلے جائیں گے پس ہم خوشامدی نہیں ۔ وہ لوگ جو ہم پر الزام لگاتے ہیں اور خود بہادر بنتے کا دعوی کرتے ہیں ہم ان سے زیادہ جبری ہیں، اور ہم نے اپنے عمل سے دکھا دیا ہے کہ جہاں ہمیں دین کے معاملہ میں جانوں اور مالوں کا خطرہ پیش آیا ہے وہاں ہم نے ان کی کوئی پرواہ نہیں کی ۔ وہ لوگ جو ہمیں ڈرپوک کہتے ہیں خود ذرا ذرا سی بات پر ڈرتے ہیں۔ لیکن ہمارے آدمیوں کو کابل میں اپنی جانیں دینی پڑیں اور انہوں نے ذرا دریغ نہ کیا ۔ اسی ہندوستان میں ہمارے لوگوں کو مارا پیٹا جاتا ہے ان کی جائدادیں چھینی جاتی ہیں۔ مگر انہوں نے دین کے لئے کسی بات کی پروا نہیں کی۔ غرض ہم نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ ہم ڈرنے والے نہیں ہم کسی سے خوف کھانے والے نہیں ہم پر کسی کی طاقت اور قوت کا کوئی رعب نہیں ۔ پھر ہم پر خوشامدی ہونے کا الزام کس منہ سے لگایا جاتا ہے ؟ → جس کی وجہ ہم گورنمنٹ کی مخالفت میں کیوں شریک نہیں ہوتے ؟ وہ کیا بات ہے سے ہم گورنمنٹ کے خلاف فتنہ و فساد سے الگ رہتے ہیں ؟ اور کیوں گورنمنٹ کی وفاداری کرتے ہیں ؟ وہ یہ ہے کہ ہمارے امام نے ہاں اس امام نے جس نے نہیں ظلمت و تاریکی سے نکالا اس نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ یہ حکومت جس نے اس ملک میں انتظام کر رکھا ہے اس کی اطاعت کرو۔ اس میں انگریزوں کی شرط نہیں ۔ بلکہ شرط یہ ہے کہ جس ملک میں رہو اس ملک کی گورنمنٹ کی اطاعت کرو۔ پیس اگر ہم کابل میں رہیں گے تو اسی کی اطاعت کریں گے۔ اور اگر جرمنی میں رہیں گے تو اسی کی اطاعت کریں گے اور اگر فرانس میں رہیں گے تو اس کی اطاعت کریں گے جہاں جہاں ہماری جماعت ہوگی وہاں جو بھی سلطنت ہوگی اس کی اطاعت کرے گی اور یہ ایک ایسی بات ہے کہ اگر دنیا مان لے تو تمام دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے اور کوئی جنگ اور لڑائی نہیں اُٹھ سکتی ۔