انوارالعلوم (جلد 5) — Page 370
انوار العلوم جلد ۵ ٣٧٠ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب کونسا مذہب دنیا کی تسلی کا موجب ہو سکتا ہے پروفیسر رام دیوما کے مضمون کا جواب ر از سید نا حضرت خليفة المسالح الثاني ) ؟ اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھا جو هُوَ النَّ صر احباب کرام کو یاد ہو گا کہ پروفیسر رام دیو صاحب کے ایک لیکچر کے متعلق جو انھوں نے آریہ سماج کے سالانہ جلسہ کے موقع پر دیا تھا اور جس میں انھوں نے ویدک دھرم کی فضیلت دوسرے مذاہب پر ثابت کرنے کی کوشش کی تھی میں نے ایک مضمون لکھا تھا جو ۱۳ دسمبر نالہ کے الفضل میں شائع ہو چکا ہے ۔ ۔ پروفیسر صاحب کے مضمون کا خلاصہ پروفیسر رام دیو صاحب نے اس مضمون کا جواب پرکاش کے 14 جنوری سالانہ کے پرچہ میں شائع کرایا ہے جس میں انھوں نے اول تو اس بات پر خوشنودی کا اظہار کیا ہے کہ ان کے مضمون پر سنجیدگی اور متانت سے نکتہ چینی کی گئی ہے پھر ہندومسلم اتحاد پر میرے خیالات کی تائید کی ہے ۔ آگے چل کمر وہ تحریر فرماتے ہیں کہ میں نے غلط فہمی سے پروفیسر صاحب کی طرف یہ بات منسوب کر دی ہے کہ انھوں نے اسلام کے خلاف یہ دلیل دی ہے کہ مسلمانوں کا رنگ کالا ہے اس لئے وہ یورپ کی نسلی نہیں کر سکتے ۔ وہ تحریر فرماتے ہیں کہ یہ بات انھوں نے عیسائیوں کے متعلق بطور مذاق کہی تھی اور بندے ماترم میں شائع شدہ خلاصہ تقریر سے اس قسم کی غلط فہمی کا ہو جانا بعید از قیاس نہیں۔ پھر " "