انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 371

انوار العلوم جلد ۵ ۳۷۱ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب وہ تحریر فرماتے ہیں کہ مسٹر سید امیر علی صاحب اور مسٹر خدا بخش کی کتابوں سے اقتباسات جس غرض سے پروفیسر صاحب نے پیش کئے تھے اس کا مطلب بھی میں غلط سمجھا ہوں وہ تسلیم کرتے ہیں کہ کسی مذہب کے پیروکار کا اس مذہب سے منکر ہو جانا لازمی طور پر اس مذہب کے غلط ہونے کی دلیل نہیں لیکن اگر کسی مذہب کا پر جوش واعظ اور سلم لیڈر اس کتاب میں جو اس نے اس مذہب کی حمایت میں لکھی ہو اس کے کئی مسائل کو زمانہ کے لحاظ سے نا قابل حمایت تسلیم کرے تو یہ ان مسائل کی کمزوری کا ثبوت ضرور ہے۔ اگر ایک مقدمہ میں ایک فریق کا وکیل ہی خاص امر پر زور نہ دے یا اپنی کمزوری مان لے اور مؤکل اس کے نمائندہ ہونے سے انکار نہ کرے تو عدالت کے لئے ناممکن ہے کہ ان امور کے متعلق اس فریق کے حق میں فیصلہ کرے ۔ سید امیر علی نہ مرتد ہیں نہ معمولی مسلمان بلکہ انھوں نے یہ کتاب ہی اس غرض سے لکھی تھی کہ یورپ میں اشاعت اسلام ہو۔ پس جب ایک مسلمان عالم دنیا کو اسلام کی طرف کھینچنے کے لئے ایک کتاب لکھتا ہے اور اس میں یہ بتاتا ہے کہ اس کے بعض مشائل وحشیوں کے لئے تو مناسب تھے لیکن آج غیر ضروری ہیں تو اگر کوئی غیر مذہب کا واعظہ اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ کئی مسلمان عالم بھی اس روشنی کے زمانہ میں اسلام کے چند مسائل کی حمایت نہیں کر سکتے تو اس کا کیا قصور ہے۔ پھر لکھتے ہیں اس کے دو جواب ہو سکتے تھے یا یہ کہ سید امیر علی مرتد ہیں یا یہ کہ حوالے غلط ہیں۔ مگر سید صاحب کو کسی نے کافر نہیں قرار دیا اور ان کے حوالوں کو کسی نے غلط ثابت نہیں کیا ہیں ان مسائل کا اسلام کی کمزوری کی دلیل میں پیش کرنا بالکل درست تھا۔ یہ میری دلیل تھی بھی اور ہے بھی کہ کسی مذہب کے نمائندوں کا باوجود کوشش کے اس کے بعض مسائل کی حمایت نہ کر سکنا اس مذہب کی کمزوری کی دلیل ہے ۔ پھر پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ ہندو صاحبان کے جو حوالے میں نے پیش کئے تھے وہ اپنے مدعا کو ثابت کرنے سے قاصر ہیں ۔ مثلاً لالہ لاجپت رائے صاحب کے اقوال اول تو کچھ ثابت ہی نہیں کرتے اور اگر ثابت کریں تو وہ آریہ سماجی نہیں ہیں پھر اگر انھوں نے یہ کہدیا کہ پندرہ سو برس سے بعض عقائد کی وجہ سے ہندو مذہب ہماری تباہی کا موجب ہو رہا ہے تو اس میں کیا حرج ہے اس کے تو سب ہندو قائل ہیں۔ لالہ مولراج صاحب بھی آریہ سماج کے مذہبی نمائندہ نہیں ہیں اور ان کے خیالات سے آریہ سماج کے دونوں فریق اختلاف ظاہر کر چکے ہیں نہ انھوں نے آریہ سماج کی حمایت میں کبھی کوئی کتاب لکھی ہے ۔ آریہ گزٹ نے اگر گرے ہوئے لوگوں کیلئے ودھوا کے بیاہ کی اجازت دیدی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ کیونکہ پنڈت دیا نند صاحب نے بھی شودروں