انوارالعلوم (جلد 5) — Page 320
النوار العلوم جلد ۵ ۳۲۰ اسلام اور حریت و مساوات کے نیچے چھپ سکتا ہے ۔ حق بھی ظاہر ہو کر رہتا ہے اور باطل بھی ۔ پس خواہ کیسا ہی اختلاف ہو اور کسی کا بھی مقابلہ ہو امانت کو کبھی ترک نہیں کرنا چاہئے ۔ دیانتدار انسان کا خاصہ ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے کہ وہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے کبھی باطل کی مدد نہیں لیتا اور ناجائز و سائل کو اختیار نہیں کرتا بلکہ دلیری اور جرات سے حق کا اظہار کرتا ہے اور صداقت کو اختیار کرتا ہے خواہ اس میں اس کا کچھ نقصان ہی ہو گر مجھے افسوس ہے کہ آپ نے بعض وقت طیش میں آکر اس امر کو مد نظر نہیں رکھا اور لوگوں کو بھڑکانے کے لئے یا میری باتوں کو حقیر ثابت کرنے کے لئے میری طرف وہ باتیں منسوب کر دی ہیں جو میں نے لئے یا نہیں کہیں ۔ یا جن کے متعلق میں نے اس مضمون کے بالکل خلاف بیان کیا ہے جو آپ نے میری طرف منسوب کر دیا ہے ۔ مثال کے طور پر میں چند امور کو بیان کرتا ہوں :- (1) ட یری صحابہ کی ہتک کرنے کا غلط الزام ، آپ نے تحریر فرمایاہے کہ میں نے صحابہ کرام اور تابعین کو شریروں سے تعبیر کیا ہے ۔ خواجہ صاحب آپ جانتے ہیں اور وہ سب لوگ جو میرے خیالات سے واقف ہیں یا جنہوں نے میرا ہ مضمون پڑھا ہے جس کی طرف آپ اشارہ کرتے ہیں جانتے ہیں کہ یہ ایک خطر ناک بہتان ہے ۔ میں نے ہرگز کسی صحابی یا تابعی کو شہر پر نہیں کہا ۔ بلکہ میں صحابی یا تابعی کو شریر کہنے والے یا سمجھنے والے کو شریر سمجھتا ہوں۔ میرے مضمون کا کوئی فقرہ یا جملہ نہ وضاحتاً نہ اشارتاً نہ کنایہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ کوئی صحابی یا تابعی شریر ہے اور باوجود اس کے آپ کا یہ بات میری طرف منسوب کرنا اس امر یہ شاہد ہے کہ یا تو آپ کو حد درجہ کی موٹی عقل ملی ہے جس کی وجہ سے آپ دن کو دن اور رات کو رات بھی نہیں سمجھ سکتے یا آپ کو اپنی بات کی پرچ اور ضد میں حق و باطل کی بھی تمیز نہیں رہتی ان دونوں باتوں کے سوا تیسری اور کوئی بات میرے خیال میں نہیں آتی جس پر میں آپ کے اس فعل کو محمول کروں میں نے جو کچھ لکھا تھا ۔ وہ یہ تھا کہ حضرت عثمان کے زمانہ میں بعض شریروں نے جو صحابہ کے اموال کو دکھے نہیں سکتے تھے۔ لوگوں میں اس کے خلاف جوش پیدا کرنا شروع کیا اور حضرت ابو ذر غفاری کو جو ایک غریب مزاج آدمی تھے اور زیادہ مال پاس رکھنے کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن دوسروں کو بھی مجبور نہیں کرتے تھے جا کر اکسایا کہ دیکھو لوگ کسی طرح مال و دولت جمع کرنے میں لگ گئے ہیں اور ان کو اس قدر جوش دلایا کہ ان کو جہاں کوئی مالدار صحابی مل جاتا اس کو پکڑ بیٹھتے کہ تمہارے پاس مال کیوں ہے؟ اور بجائے معمولی نصیحت کے آپ نے اس امر میں تشدد سے کام لینا شروع کیا۔ آخر حضرت عثمان کور پورٹ ہوئی اور آپ نے ان کو مدینہ بلوا لیا ۔ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ نہ تو میں نے حضرت ابو ذر غفاری کو اور نہ مت