انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 319

انوار العلوم جلد ۵ ۳۱۹ اسلام اور حریت و مساوات ہیں تو مجھے ان کا جواب لکھنے کی ضرورت نہیں ۔ ہماری جماعت کے اور کسی دوست کو ان کے مضامین کے جواب دینے پر مقرر کر دیا جائے لیکن چونکہ ممکن ہے کہ خواجہ صاحب جان بوجھ کر اس راستہ پر نہیں چل رہے بلکہ وہ اپنے نفس کے دھوکا میں آئے ہوئے ہیں اس لئے میں ایک دفعہ پھر ان کو راستی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور امید ہے کہ اب وہ اس بے اصولے پن سے رکھنے کی کوشش کریں گے جس کو وہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اگر اب بھی انہوں نے بجائے اصل مطلب کی طرف آنے کے اسی طرح بے سروپا باتوں کی طرف توجہ کی تو ان کا جواب دینے کے لئے اور بہت سے احباب موجود ہیں جو اپنے اوقات میں سے کچھ ان کی خاطر بچا سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان سے علم اور سمجھ میں ہر طرح بالا ہیں ۔ خواجہ صاحب کے اسلام کے خلاف خطر ناک عقائد سب سے پہلے تو میںپھر خواجہ صاحب کو اس امر کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ جس مضمون کا جواب وہ لکھنے بیٹھے ہیں اس کا ہرگز وہ مطلب نہیں جو وہ سمجھے ہیں ۔ میں نے حریت و مساوات کے متعلق اپنی رائے ہرگز بیان نہیں کی ۔ بلکہ سائل سے ان الفاظ کا مطلب پوچھا ہے تاکہ اس کی تشریح کے مطابق اس کو جواب دیا جائے ۔ آپ بلا اس کے کہ میرا خیال آپ کو معلوم ہو ایک غلط بات کو میری طرف منسوب کر کے اس کا رد کرنے لگ گئے ہیں اور اس فعل میں ایسے خطر ناک اور خلاف اسلام عقائد کو پیش کرنے لگ گئے ہیں کہ ان کو اگر صحیح تسلیم کر لیا جائے تو وہ اسلام جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے اور جو قرآن کیا میں بیان ہے اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا ۔ جیسے یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے بغیر بھی نجات ہو سکتی ہے اور یہ کہ رسولوں کی بات کا ماننا بھی شرک ہے اور غیراللہ کی عبادت ہے ، وَغَيْرُ ذَلِكَ مِنَ الْخُرَافَاتِ الْوَاهِيَةِ وَالْمَقَالَاتِ الكُفْرِيَّةِ - اور باوجود اس کے میری بیان کردہ باتوں کو ضلالت اور کفر اور فسق ثابت کرنے پر زور دیتے ہیں۔ مجھے اس جگہ ان مسائل پر کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ۔ کیونکہ ان سے میرے مضمون کا کچھ تعلق نہیں ۔ آپ نے تو غالباً بات کو مشتبہ کرنے کے لئے جو مسئلہ بھی سامنے آیا ہے ۔ اسے اپنے مضمون میں داخل کر دیا ہے ۔ مجھے اس امر میں آپ کی اتباع کی ضرورت نہیں ۔ اور نہ اس طرح کسی امر کا تصفیہ ممکن ہی ہے ۔ اس کے بعد میں خواجہ صاحب کو بتانا چاہتا ہوں کہ حق حق و باطل ظاہر ہو جاتا ہے کبھی جیلوں اور بہانوں سے ہیں بھی سکتا۔ باطل پردوں لوں اور سے نہیں مل نہ ۔