انوارالعلوم (جلد 5) — Page 321
انوار العلوم جلد ۵ ۳۲۱ اسلام اور حریت و مساوات کسی اور بزرگ کو شریر کہا ہے۔ بلکہ جو شریر تھے صرف ان ہی کو شریر کہا ہے ۔ ہاں اگر خواجہ صاحب کے نزدیک وہ اشرار جو حضرت عثمان کے وقت میں فتنہ پھیلانے کے موجب ہوئے تھے صحابہ کا درجہ رکھتے تھے تو پھر بے شک مجھ پر الزام آسکتا ہے۔ لیکن اگر صحابی سے مراد وہ اشخاص ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور جن کو آپ نے مومنوں میں شامل کیا تو پھر یہ ایک خطر ناک بنتان ہے کہ میں نے صحابہ تو الگ رہے کسی ایک صحابی کو بھی شریر کہا ہو اور مجھے افسوس ہے کہ خواجہ صحاب نے خلاف تقویٰ اور دیانت مجھ پر ایسا گندہ الزام لگایا ہے ۔ اگر ان کا یہ خیال ہے کہ اس طرح اس مضمون پر پردہ پڑ جائے گا جس پر انہوں نے قلم اُٹھایا ہے تو یہ ایک غلط خیال ہے کیونکہ باطل کبھی کامیاب نہیں ہوتا ۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں نے تابعیوں کو بھی تابعین کو شری رکھنے کا جھوٹا الزام ری کہا ہے کہیں کا نا تومیرے مضمون میں تابعی لفظ ہے ہی نہیں ۔ مگر شاید انہوں نے تابعی کا استدلال اس سے کر لیا ہے کہ چونکہ میں نے حضرت عثمان کے زمانہ کے بعض لوگوں کو شریر کہا ہے اور اس وقت صحابہ کرام کی چونکہ ایک کثیر تعداد موجود تھی اس لئے اس زمانہ کے سب لوگ تابعی ہو گئے - استدلال تو یہ بہت باریک ہے ۔ مگر اس اصل کے ما تحت غالباً خواجہ صاحب ابو جہل اور غلبہ اور شیبہ کو بھی صحابی قرار دیتے ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا اور عبداللہ بن ابی ابن سلول اور اس کے ساتھیوں کو تو ضرور وہ صحابہ میں شامل کرتے ہوں گے۔ کیونکہ وہ تو سالہا سال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے تھے ۔ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ - خواجہ صاحب پر مجھے تعجب ہے ۔ وہ اتنا بھی نہیں سمجھ سکتے کہ تابعی تو اس شخص کو کہتے ہیں جو صحابہ کا سچا متبع ہو نہ یہ کہ ہر شخص جو صحابہ سے ملا سے ملا ہو وہ تابعی ہے خدا تعالی قرآن کریم میں تابعی کی تعریف یہ فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانِ التوبة : (۱) جو لوگ صحابہ کے کامل متبع ہو گئے۔ پس وہی تابعی ہے جو صحابہ کا کامل متبع ہے اور ان کے نقش قدم پر چلنے والا ہے۔ نہ کہ ہر وہ شخص جس نے صحابہ کو دیکھا ہو خواہ کس قدر ہی شریر اور مفسد کیوں نہ ہو ۔ اگر خواجہ صاحب کو تاریخ سے ادنی درجہ کی واقفیت بھی ہوتی تو وہ جان لیتے کہ میں نے جس جماعت کی طرف اپنے مضمون میں اشارہ کیا ہے وہ عبداللہ بن سباء اور اس کے پیروؤں کی جماعت ہے۔ اور ان کے شریر اور مفسد ہونے کے صحابہ بھی اور بعد کے بزرگان اسلام بھی قائل ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو دردانہ اور حضرت عبادة ابن الصامت جیسے معزز صحابہ نے اسے مفسد اور منافق ۱۰۰)