انوارالعلوم (جلد 5) — Page 251
انوار العلوم جلد ۵ ۲۵۱ ترک موالات اور احکام اسلام ترک موالات کے فتنہ ہلاکو خان کے وقت علماء اسلام کا رویہ اور اس سے سبق میں اللہ کے حامیوں کو ایک اور بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اس سے پہلے بھی ایک زمانہ اسلام پر الیسا آچکا ہے کہ اس کی مرکزی حکومت گھر کے ہاتھ سے برباد ہو چکی ہے۔ ترکوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی کا واقعہ مسلمانوں سے پوشیدہ نہیں ۔ پس پیشتر اس کے کہ کوئی خاص طریق عمل تجویز کیا جاوے ہمارے لئے اس امرکا دیکھنا ضروری ہے کہ اس وقت کے علماء نے کیا طریق اختیار کیا تھا ؟ کیا فی الواقع اس وقت کے علماء نے جو اس وقت کے علماء سے اپنے علم اور اپنے تقوی میں بہت بڑھ کر تھے یہی طریق اختیار کیا تھا جو آجکل ترک موالات کے حامی کر رہے ہیں ۔ اس وقت تو خلافت کی ظاہری شکل بھی باقی نہ رکھی گئی تھی ۔ خود خلیفہ کے خاندان کے ہزاروں مرد و عورت قتل کئے گئے تھے اور بغداد کے اردگرد اٹھارہ لاکھ آدمی تہ تیغ کر دیئے گئے تھے۔ عورتوں کو بھاگنے کے لئے راستہ نہ ملتا تھا ۔ اس وقت کے علماء نے کیا فتوی دیا تھا اور عالم اسلام نے اس پر کس طرح عمل کیا تھا ؟ وہ زمانہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے قریب کا زمانہ تھا اور آج کل کے زمانہ سے اچھا تھا ۔ کیونکہ اس وقت کے بعد ترک موالات کے حامیوں کے عقیدہ کے مطابق کوئی نئی روح مسلمانوں میں ایسی نہ آئی کہ جس نے ان کو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کر دیا ہو اور جو آئی ہے اسے انہوں نے قبول نہیں کیا۔ ہیں اس زمانہ کے علماء کے فتووں کو بھی تو دیکھو کہ کیا انہوں نے اسی طریق عمل کو اختیار کیا تھا جو آج کل کے لوگ کر رہے ہیں۔ آنحضرت الی عملیات کی وصیت کفار کو ترک موالات کی تائید میں ایک یہ بات بھی پیش کی جاتی ہے کہ جزیرہ عرب سے کفار کے نکال جزیرہ عرب سے نکال دینےکی بات دینے کا روا کو یہ نیا نہ ہی ہم نے حکم دیا دینے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اسلئے جزیرہ عرب کے ممالک پر سیجیوں کا قبضہ یا اقتدار نہیں ہونا چاہئے اس میں کوئی شک نہیں کہ مسجد حرام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مشرک اس کے قریب نہ آئیں لیکن باقی جزیرہ عرب کے متعلق قرآن کریم میں کوئی ذکر نہیں ۔ ہاں بعض احادیث سے ضرور یہ پتہ چلتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواہش ظاہر فرمائی تھی کہ اگر آپ زندہ رہے تو سہود کو خیبر وغیرہ علاقوں سے خارج کر دیں گے اور یہ خواہش حضرت عمرہ کے زمانہ میں پوری کی گئی ۔ مگر ان احادیث کے متعلق دو سوال حل طلب ہیں اول یہ کہ کیا یہ ایسی ہی خواہش تھی کہ اس کے پورا کرنے کے لئے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے ؟ دوم رعت عد ترمذي - البواب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم باب ماجاء في اخراج اليهود والنصاري عن جزيرة العز