انوارالعلوم (جلد 5) — Page 250
コン انوار العلوم جلد ۵ ۲۵۰ ترک موالات اور احکام اسلام بھی غور کرنا چاہئے کہ ترک موالات کا حکم دینے کا مجاز صرف خلیفہ ہی ہو سکتا ہے کیونکہ خداتعالیٰ کے احکام کی طرف بلانا اور ان کا نافذ کرنا اس کا کام ہے ۔ ترک موالات چونکہ ان تعلقات میں سے ہے جو افراد کے درمیان نہیں بلکہ قوموں یا حکومتوں کے درمیان ہوتے ہیں اس لئے اس کے متعلق فیصلہ خلیفہ ہی کر سکتا ہے لیکن جبکہ وہ سلطان المعظم کی خلافت کے متعلق اس قدر زور دے رہے ہیں کیا کبھی انہوں نے اس امر پر بھی غور کیا ہے کہ خود سلطان المعظم نے کبھی ترک موالات کے لئے مسلمانوں کو دعوت نہیں دی بلکہ وہ خود اتحادیوں سے صلح کرنے پر تیار ہو گئے بلکہ انہوں نے صلح کر لی۔ اس صورت میں دوسرے مسلمانوں کو خصوصاً ان کو جو سلطان العظم کو خلیفہ تسلیم کرتے ہیں یہ حتی کسی طرح پہنچتا ہے کہ وہ ان کے منشاء وہ ان کے منشاء بلکہ ان کے عمل کے خلاف کام کریں۔ اس سوال کا جواب کہ سلطان ترکی بوجہ بے شک بعض لوگ کہہ دیں گے کہ سلطان المعظم کو اتحادیوں نے اپنے نرغہ اتحادیوں کے نرغہ میں آجانے کے معذور ہیں میں لے لیا ہے لیکن سوال یہ ہے کیا سلطان المعظم اس سے زیادہ نرغہ میں ہیں جس قدر کہ ہندوستان کے مسلمان ہیں ؟ ہندوستان کے مسلمانوں کے پاس نہ تو فوج ہے نہ اسلحہ، نہ مال ، نہ طاقت ۔ اگر یہ ترک موالات کر سکتے ہیں تو کیا سلطان المعظم جو اس حالت سے بہر حال اچھی حالت میں ہیں ترک موالات نہیں کر سکتے ؟ اگر وہ ترک موالات نہیں کرتے نہ ترک موالات کی مسلمانان عالم کو دعوت دیتے ہیں تو کیا ان کے عمل اور ان کے منشاء کے خلاف کام کرنے والے ان کے سچے عقیدت مند کہلا سکتے ہیں ؟ کیا مدعی سست اور گواہ چست والی مثال ان مسلمانوں پر صادق نہیں آتی جو اس وقت ترک موالات پر زور دے رہے ہیں ؟ پھر یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ اگر فی الواقع سلطان المعظم کو نرغہ میں لے لیا گیا ہے اور وہ بالکل بے بیس ہیں تو کیا مسلمانان ہندوستان اس امر کو درست سمجھتے ہیں کہ خلیفہ وقت کسی وقت بھی دشمن کی طاقت کو دیکھ کر ان احکام کے نفاذ کو ترک کر دے جو اس کے سپرد کر دیئے گئے تھے ؟ پس ان کا یہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ یا تو وہ سلطان المعظم پر بھی اعتراض کرتے ہیں کہ وہ شریعت کے احکام کی پیروی نہیں کرتے اور یا یہ کہ وہ خود شریعت کے خلاف عمل کرتے ہیں اور ان کا سلطان المعظم سے تعلق کا دعوی بالکل غلط ہے اور صرف سیاسی اغراض پر مبنی ہے اور حق بھی یہی ہے کیونکہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آج سلطان المعظم کے طریق عمل کی بجائے مسٹر گاندھی کے طریق عمل کی پیروی نہ کی جاتی اور ان کو امام گاندھی کا لقب دے کر شریعیت اسلام کی علی الاعلان ہتک نہ کی جاتی ۔