انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 200

انوار العلوم جلد ۵ ۲۰۰ ترک موالات اور احکام اسلام سے کیا گیا ہے ۔ ترک مجرم سہی مگر وہ اتنا مجرم نہ تھا جتنا کہ جرمن بیکن جرمن سے جو سلوک روا رکھا گیا ہے اس قدر سلوک بھی ترک سے نہیں کیا گیا اور پٹیل ان اعلانوں کے باوجود ہوا ہے جو اس سے پہلے شائع سے کئے جاچکے تھے اور جن میں بالکل برعکس فیصلہ کی اُمید دلائی جاتی تھی ۔ اسی طرح اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ درینگ کر چلنے کاحکم الیسا وحشیانہ اور ظالمانہ ہے کہ کوئی شخص بھی اسے برداشت نہیں کر سکتا اور اس کے خلاف اگر ہندوستانیوں کو غصہ پیدا ہو تو یہ کوئی تعجب کا مقام نہیں۔ اسی طرح جلیانوالے باغ کے واقعہ میں بھی جس سختی سے کام لیا گیا ہے وہ نہایت ہی قابل افسوس حصہ پر اثر ہے اور جنرل ڈائر کا یہ قول کہ وہ اس لئے گولیاں چلاتے گئے کہ تا ملک کے دوسرے حصہ پر ہو اور بغاوت فرو ہو جا رہے ان کے مجرم ثابت کرنے کے لئے کافی ہے اور کسی مزید ثبوت کی ضرورت نہیں ۔ یہ بیان کہ جنرل ڈاکٹر کا فعل اجتہادی غلطی ہے درست نہیں۔ کیونکہ اجتہادی غلطی وہ ہوتی ہے کہ جس کا وقوع ایسے حالات میں ہو کہ اس کام کے کرنے یا نہ کرنے دونوں کے دلائل موجود ہوں لیکن اس جماعت پر گولیاں چلانا جو ہتھیار ڈال چکی ہو اور اپنے عمل سے اپنی غلطی کا اقرار کر رہی ہو خود میدان جنگ میں بھی جائز نہیں ۔ جب کوئی فوج ہتھیار ڈال دے تو اس پر وار کرنا جائز نہیں۔ بارہا جرمن فوجوں کے خلاف یہ خبر شائع کی جاتی تھی کہ بعض جگہ صلح کی جھنڈیاں دیکھ کر بھی وہ گولہ باری سے باز نہیں آتے تھے اور اس طرح ان کا وحشیانہ بن ثابت کیا جاتا تھا۔ پھر وہی بات جو میدان جنگ میں بھی نا جائز تھی ایک ایسی جماعت کے مقابلہ میں کس طرح جائز ہو سکتی تھی جو گو احکام کی خلاف ورزی کرنے والی تو ضرور تھی لیکن نہ تو ان معنوں میں بر سر جنگ تھی جن معنوں میں کہ ایک فوج دوسری فوج سے بر سر جنگ ہوتی ہے اور نہ مارشل لاء کے قواعد سے واقف تھی کیونکہ یہ قانون ان کی زندگی میںپہلی دفعہ جاری ہوا تھا ۔ اور ایک تجربہ کار جرنیل اس امر سے کس طرح نا واقف ہو سکتا تھا ؟ کہ جب ایک فوج ہتھیار ڈال دے تو دوسری فوجوں پر رعب ڈالنے کے لئے اس پر گولیاں چلانے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ بیگ کو نیشن میں صاف طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ اس دشمن کو زخمی کرنا یا مارنا جس نے اپنے ہتھیار ڈال دیتے ہوں یا جس کے پاس اپنی حفاظت کا کوئی سامان نہ رہا ہو اور اس نے مقابلہ ترک کر دیا ہو بالکل نا جائز ہوگا۔ اسی طرح یہ کہ یہ اعلان کر دیا کہ خواہ دشمن مقابلہ ترک ہی کر دے اس سے رقم کا سلوک نہ کیا جاوے گا جائز نہ ہوگا ۔ مارشل لاء کے قوانین میں یہ شرط ہے کہ فوجی قوانین کا لحاظ کیا جاوے اور بلوں کے دبانے کے لئے جو اختیارات فوجیوں اور پولیس کو دیئے گئے ہیں ان میں کہیں نہیں لکھا کہ ان کا کام یہ ہے کہ رعب ڈال