انوارالعلوم (جلد 5) — Page 201
انوار العلوم جلد ۵ ۲۰۱ ترک موالات اور احکام اسلام کر بلوہ کو مٹائیں ۔ بلکہ ان کا کام ہر فساد کے موقع پر اس خاص صورت کا لحاظ کرنا ہے جو اس وقت ان کے سامنے ہے۔ اور جان لینا اسی وقت جائز رکھا گیا ہے جب کہ باغی جائیداد تباہ کر رہے ہوں یا قتل و غارت میں مشغول ہوں یا افسروں کے احکام کے با وجود اجتماع کو پرا گندہ نہ کریں اور پراگندہ کرنے کی کوشش میں سرکاری آدمیوں کا مقابلہ کریں۔ لیکن یہ صورت جلیانوالہ باغ میں پیدا نہ تھی لوگ پراگندہ ہونے شروع ہو گئے تھے اور ان کے بھاگنے پر ان پر گولیاں چلانا نہ فوجی قانون کے لحاظ سے جائز تھا نہ ملکی قانون کے لحاظ سے اور اس میں تجربہ کار جبرئیل کو دھوکا نہیں لگ سکتا تھا۔ یہ واقعات واپس نہیں ہو سکتے غرض یہ دونوں واقعات ضرور ظالمانہ تھے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی قوم ان گذشتہ واقعات کو جو ہو چکے ہوں پھیر سکتی ہے ؟ یقیناً جو ہو چکا سو ہو چکا ۔ اور اب اس فعل کو واپس نہیں کیا جا سکتا۔ پس اس اعلان کو مد نظر رکھتے ہوئے جو حضور قیصر ہند کی طرف سے پچھلے سال شائع ہوا تھا اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ہندوستانیوں میں سے وہ لوگ جنہوں نے اس موقع پر قانون کی اس طرح پابندی نہیں کی جس طرح کہ کرنی چاہئے تھی رہا کر دیئے گئے ہیں اور ان کے جرم معاف کر دئے گئے ہیں۔ ہمیں بھی چاہئے کہ ان گذشتہ واقعات کی تاریک یاد کو دل سے نکال دیں اور آئندہ کی بہتری کی طرف توجہ کریں ۔ ہے اے عزیز و ا صلح اور محبت ایک پاک چیز ہے اور فساد اور فتنہ ناپاک ہے۔ خدا کا پیارا بننے کے لئے اور اس سے تعلق پیدا کرنے کے لئے محبت اور عفو کا پیدا کرنا ضروری ہے خدا تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے : فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری : ۲۱) یعنی جو شخص در گزر کرتا اور اصلاح سے کام لیتا ہے اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ پر ہے ۔ تمہاری خنگی اور غصہ کی جو غرض تھی وہ پوری ہو گئی ۔ وہ لوگ جن سے یہ افعال ہوئے تھے ان کے افعال کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا گورنمنٹ نے اس بات کا عہد کر لیا کہ آئندہ پوری احتیاط کی جاوے گی اور اس قسم کے واقعات نہ ہونے دیئے جاویں گے۔ اس اخلاقی فتح سے زیادہ اور آپ لوگ کیا حاصل کر سکتے تھے ؟ اگر جنرل ڈائر کو کوئی قتل بھی کر دے یا بعض اور افسروں کو مار ڈالا جائے تو کیا یہ بات اس سے زیادہ ہو گی جواب آپ لوگوں کو حاصل ہوئی ہے یعنی ان کے افعال کو غیر منصفا نہ قرار دیا گیا ہے ۔ ان کو ملازمتوں سے ریٹائر کر دیا گیا ہے اور آئندہ کے لئے ایسے واقعات کو روکنے کے لئے گورنمنٹ نے وعدہ دیا ہے اور اس کے لئے قواعد بھی بنا دیئے ہیں۔