انوارالعلوم (جلد 5) — Page 199
انوار العلوم جلد ۵ ۱۹۹ ترک موالات اور احکام اسلام ترک موالات اور احکام اسلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ھوالا خدا کے فضل اور دم کے ساتھ اور اصر ہندوستان کی موجودہ بے چینی ان ان ایام میں تمام ہندوستانیوں میں عموماً اور مسلمانوں میں خصوصاً جو بے اطمینانی اور جوش پھیل رہا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی انسان اس کی طرف سے آنکھ بند کر رکھے تکلیف اور دُکھ تو غیر کا بھی نہیں دیکھا جاتا کجا یہ کہ اپنے بھائیوں اور اہل وطن کا ۔ پس اس غیر مطمئن اور گھبراہٹ کی حالت کو دیکھ کر جو مسلمانوں پر خصوصاً اور اقی اہل ہن پر موم کاری ہے دردمند درد بغیر اور اس سے ہند پر عموماً کاری ہے ایک درد مند دل درد محسوس کئے بغیر اور اس سے نجات دلانے کے لئے جد و جہد کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا ۔ بے چینی کی وجوہات ای اس غیر مطمئن حالت کی دو بڑی وجوہ بیان کی جاتی ہیں ایک وہ فیصلہ جو تر کی حکومت کے متعلق اتحادی حکومتوں نے کیا ہے اور ایک وہ ہتک آمیز اور سخت رویہ جو شورش پنجاب کے وقت بعض افسران گورنمنٹ نے اختیار کیا تھا اور جس کی بڑی مثالیں رینگ کر چلنے کا حکم اور جلیانوالہ باغ کے واقعات ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دونوں معاملوں میں گورنمنٹ اور گورنمنٹ کے افسران سے ضرور غلطی ہوئی ہے۔ اول الذکر فیصلہ میں بعض ان امیدوں کو جو خود وزراء انگلستان نے بلا مسلمانان عالم کے مطالبہ کے دلائی تھیں پورا نہیں کیا گیا اور یقیناً ترکوں سے وہ سلوک نہیں کیا گیا جو دوسری مسیحی حکومتوں