انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 160

انوار العلوم جلد ۵ ۱۶۰ فرائض مستورات طور پر پہنے جاتے ہوں ان کی زکوٰۃ دی جائے تو جائز ہے اور نہ دی جائے تو گناہ نہیں۔ ان کا گھسنا ہی نہ کوہ ہے ۔ ہمارے ملک میں عورتوں کو زیور بنوانے کی عادت ر ہوتی ہمارے ملک میں عورتوں کو زیور بنوانے کی عادت ہے اس لئے قریبی سب عورتوں پر زکوۃ فرض ہوتی ہے وہ اس کا خیال نہیں رکھتیں۔ حالانکہ یہ اتناضروری حکم ہے کہ رسول کریم صلی اللہ حالانکہ یہ کی ہے رسول کریم علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب کچھ لوگوں نے زکواۃ دینے سے انکار کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ جب تک زکوۃ کی اونٹ باندھنے کی رسی تک نہ دیں گے میں ان سے جنگ کروں گا ۔ اور یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ جو زکوۃ نہ دے وہ مسلمان نہیں تم اپنی حالت پر غور کرو کہ تم میں سے بہت سی تو نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے مسلمان نہیں رہتیں۔ اور جو اس سے بچ جاتی ہیں ان میں سے اکثر زکوۃ نہ دینے کی وجہ سے مسلمان نہیں کہلا سکتیں ۔ روزے رکھو تیرا حکم روزے کا ہے۔ اس کے متعلق حکم ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آئے تو سوائے ان دنوں کے جن میں خدا تعالیٰ نے عورتوں کو روزے رکھنے سے منع کیا ہے باقی دنوں میں روزے رکھنے چاہئیں۔ اس کے متعلق مجھے زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نمازیں تو نہیں پڑھتے لیکن روزسے بڑی پابندی کے ساتھ رکھتے ہیں ۔ گو خدا تعالیٰ کے لئے نہیں بلکہ تماشا کے طور پر رات کو اُٹھتے ہیں اور روزے کا خاص اہتمام کرتے ہیں ۔ حج خانه خانہ کعبہ چوتھا حکم یہ ہے کہ اگر داتعالی کی توفیق دے تو حج کرے۔ اس کے لئے کئی شرطیں ہیں ۔ مثلا مال ہو ، رستہ میں امن ہو اور اگر عورت ہو تو اس کیساتھ اس کا خاوند یا بیٹا یا بھتیجا یا ایسا ہی کوئی اور رشتہ دار محرم جانے والا ہو۔ یا یا یا ایساہی دار صدقہ و خیرات یہ تو وہ باتیں ہیں جو ہر ایک مومن مرد اور عورت پر فرض ہیں۔ ان کے علاوہ یہ تو ۱۰ صدقہ و خیرات ہے۔ یہ اگر چہ فرض نہیں لیکن دینا ضروری ہے ۔ اپنے خاندان میں اپنے محلہ میں جو غریب اور محتاج ہو اس کو دینا چاہئے ۔ ہم احمدیوں میں صدقہ کا رواج بہت کم ہو گیا ہے جس کی ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ احمدی جو چندہ دیتے ہیں اسی کو صدقہ سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ دین کے لئے چندہ دینا اور بات ہے اور صدقہ دینا اور بات ۔ صدقہ وخیرات وہاں کے غریب اور محتاج لوگوں کا حق ہوتا ہے جہاں انسان رہے۔ اس میں مذہب کی شرط نہیں خواہ کسی مذہب کا انسان ہو مگر محتاج ہو تو اس کی مدد کرنی چاہئے۔ مثلاً اگر تمہیں کوئی غریب عورت ملے تو تمہیں یہ نہیں کہنا چاہئے کہ چونکہ یہ ہندو ہے اس لئے اسے کچھ نہیں دینا چاہئے بلکہ اس کو بھی ضرور