انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 159

انوار العلوم جلد ۵ ۱۵۹ فرائض مستورات چرا جس طرح مرغی دانے لگتی ہے ۔ آخر سوچنا چاہئے نماز کوئی ورزش نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی عبادت ہے اس لئے اسے سمجھ کر اور اچھی طرح جی لگا کر پڑھنا چاہئے ۔ اور کوئی نماز سوائے ان ایام گئے جن میں نہ پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے نہیں چھوڑنی چاہئے۔ کیونکہ نماز ایسی ضروری چیز ہے کہ اگر سال میں ایک دفعہ بھی جان بوجھ کر نہ پڑھی جائے تو انسان مسلمان نہیں رہتا۔ پس جب تک ہر ایک مسلمان ان مرد اور عورت پانچوں وقت بلا ناغہ نمازیں نہیں پڑھتے وہ مسلمان نہیں ہو سکتے ۔ ہاں اگر کہو آج تک ہم نے کئی نمازیں نہیں پڑھیں ان کے متعلق کیا کیا جائے تو اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے تو یہ رکھی ہے ۔ اگر آج سے پہلے تم نے جان بوجھ کر نمازیں چھوڑی ہیں تو توبہ کر لو اور عہد کرو کہ آئندہ کوئی نماز نہ چھوڑیں گی ۔ مینہ برستا ہو یا آندھی ہو، کپڑے پاک ہوں یا نا پاک کوئی ضروری سے ضروری کام ہو یا عدم فرصت ، کچھ ہو کسی صورت میں نماز نہ چھوڑنی چاہئے ۔ اول تو ضروری ہے کہ کپڑے پاک وصاف ہوں لیکن اگر ایسی صورت ہو کہ پاک کپڑے تیار نہ ہوں یا پینے ہوئے کپڑے اتارنے سے بیمار ہو جانے کا خوف ہو تو خواہ کپڑے بچہ کے پیشاب میں تر ہوں تو بھی ان کے ساتھ نماز پڑھ لینا جائز ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچہ کو خود کپڑوں پر پیشاب کرا کے اسی طرح نماز پڑھ لینی چاہئے بلکہ یہ ہے کہ اگر پاک کپڑے مہیا ہونے کی صورت نہ ہو تو انہی کے سام: ساتھ پڑھ لی جائے ورنہ اچھی بات یہی ہے کہ کپڑوں کو صاف کر لینا چاہئے ۔ بچہ کا پیشاب ہوتا ہی کتنا ہے ۔ بچہ جب تک دودھ پیتا ہے روٹی نہیں کھاتا اس وقت تک شریعت نے یہ رکھا ہے کہ اس کے اوپر نے یہ ہے کہ ا سے پانی با کر نچوڑ دینے سے کپڑا پاک ہو جاتا ہے۔ تو خواہ کچھ ہو نماز ضرور پڑھنی چاہئے کیونکہ نماز کی صورت میں معاف نہیں ہو سکتی۔ یہ ایمان کا ستون ہے جس طرح چھت بغیر ستون کے قائم نہیں رہتی اسی طرح نماز کے بغیر ایمان قائم نہیں رہتا ۔ نماز کے بعد دوسرا حکم زکوٰۃ کا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ جس مال پر ایک زکوۃ دیتی رہو سال گزر جائے اس میں سے غریبوں اور مسکینوں کی امداد کے لئے چالیسواں حصہ نکالا جائے ۔ اگر اسلامی حکومت ہو تو اس کو وہ حصہ دے دیا جائے۔ اگر نہ ہو تو جو انتظام ہو اس کو دیا جائے ۔ ہم احمدیوں کا ایک باقاعدہ انتظام ہے اس لئے احمدی عورتوں کو چاہئے کہ منتظمین کو زکواۃ کا مال دے دیا کریں۔ زیوروں کے متعلق یہ حکم ہے کہ اگر اپنے جاتے ہوں تو ان کی زکوٰۃ نہ دی جائے اور اگر ان کی بھی دی جائے تو اچھی بات ہے ۔ ہاں اگر ایسے زیور ہوں جو عام طور پر نہ پینے جاتے ہوں کبھی بیاہ شادی کے موقع پر سپین لئے جاتے ہوں ان کی زکوۃ دینا ضروری ہے اور جو عام عله خطبه الهامیه صفحه ۴۷ روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۴۷