انوارالعلوم (جلد 3) — Page 97
انوار العلوم جلد ۳۰ ۹۷ انوار خلافت استعمال کر سکتے تھے۔ اگر حضرت مسیح موعود حضرت مسیح ناصری سے پہلے ہوتے یا ان کے وقت میں ہوتے تب بیشک بعد کے لفظ سے آپ کے خلاف حجت ہو سکتی تھی۔ لیکن جبکہ وہ واقعہ میں بعد میں ہیں تو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ حضرت مسیح نے یہ فرمایا ہے کہ وہ رسول ان کے بعد ہو گا۔ اس سے صرف اتنا نتیجہ نکل سکتا ہے کہ وہ آپ کی زندگی میں نہیں آئے گا بلکہ بعد وفات آئے گا۔ اور یہ نتیجہ ہرگز نہیں نکل سکتا کہ وہ فوراً بعد آئے گا۔ اور پھر فور ابعد تو رسول کریم ابھی کہاں ہوئے۔ آپ تو چھ سو سال کے بعد ہوئے تھے اور اگر کہو کہ یہ شرط ہے کہ رسول ہونے کے لحاظ سے وہ فورا بعد ہی ہو اور یہ صرف رسول کریم ال میں ہی پائی جاتی ہے تو میں کہتا ہوں کہ ہمارا حق ہے کہ ہم کہیں کہ رسول ہونے کے لحاظ سے نہیں بلکہ احمد ہونے کے لحاظ سے فورا بعد کہا ہے یعنی جس رسول کی میں خبر دیتا ہوں یہ احمد نام کے لحاظ سے سب سے پہلا ہو گا پس جس سب سے پہلے رسول کا نام احمد ثابت ہو جائے اس کی نسبت یہ پیشگوئی تسلیم کرنی پڑے گی غرض اگر شرائط ہی بڑھانی ہوں ۔ تو دو سرا فریق بھی حق رکھتا ہے کہ شرائط بڑھائے اور اگر لغت عرب کے مطابق فیصلہ کیا جائے تو بھی ہماری بات کو رد کرنے کی کسی مخالف کے پاس کوئی وجہ نہیں حضرت مسیح نے بعد کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اور حضرت مسیح موعود ان کے بعد ہی ہیں۔ نہ ان سے پہلے نہ ان کے زمانہ میں۔ اب میں اس بات کا ثبوت قرآن کریم سے پیش کرتا ہوں کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود ہی ہو سکتے ہیں نہ اور کوئی۔ پہلی دلیل پہلی دلیل آپ ے اس پینگوئی کا مصداق ہونے کی یہ ہے کہ آپکا نام احمد تھا اور آپ کا نام احمد اور آپ کا نام احمد ہونے کے مفصلہ ذیل ثبوت ہیں :۔ ها حضرت مسیح موعود کے احمد ہونے کے متعلق پہلا ثبوت اول اس طرح کہ آپ کا نام آپ کے والدین نے احمد رکھا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ کے والد صاحب نے آپ کے نام پر گاؤں بسایا ہے اس کا نام احمد آباد رکھا ہے۔ اگر آپ کا نام غلام احمد رکھا گیا تھا۔ تو چاہئے تھا کہ اس گاؤں کا نام بھی غلام احمد آباد ہوتا۔ اسی طرح آپ کے بھائی کے نام پر بھی ایک گاؤں بسایا گیا ہے جس کا نام قادر آباد ہے حالانکہ ان کو غلام قادر کہا جاتا تھا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نام بھی قادر تھا۔ اور دونوں بھائیوں کے نام ۔ کیوں کے نام سے پہلے غلام صرف ہندوستان کی رسم و عادت کے طور پر زیادہ