انوارالعلوم (جلد 3) — Page 98
انوار العلوم جلد ۳۰ ۹۸ انوار خلافت کر دیا گیا تھا۔ ہندوستان میں یہ رسم چلی آتی ہے کہ لوگ مرکب نام رکھتے ہیں۔ حالانکہ ان مرکب ناموں کا کوئی معنی اور کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ مثلاً بعض کا نام محمد احمد - محمد علی وغیرہ رکھ دیتے ہیں حالانکہ ان ناموں کے کوئی معنی نہیں محمد ایک الگ نام ہے اور احمد یا علی ایک علیحدہ نام ہے۔ ان دونوں کے ملانے سے کوئی جدید فائدہ حاصل نہیں ہوتا صرف نام لمبا ہو جاتا ہے اور اس غرض کے لئے یہ الفاظ بڑھائے جاتے ہیں ورنہ ان دونوں ناموں میں سے ایک ہی نام در حقیقت اصل نام ہوتا ہے۔ حضرت صاحب کے خاندان میں بھی غلام کا لفظ سب ناموں کے پہلے بڑھایا جاتا تھا آپ ۔ ا تھا آپ کے والد کا نام غلام مریض غلام مرتضی تھا۔ چوں کا نام غلام حیدر - غلام غلام محی الدین تھا۔ اسی طرح آپ کے نام کے ساتھ غلام بڑھا یا غلام بڑھایا گیا۔ ورنہ آپ کا نام احمد ہی تھا۔ جیسا کہ آپ کے والد کی اپنی شہادت موجود ہے جود ہے کہ انہوں نے آ۔ نے آپ کے نام پر جو گاؤں بسایا اس جو گاؤں بسایا اس کا نام احمد آباد رکھا نہ کہ غلام احمد آباد اور غلام احمد اگر مرکب نام تسلیم کرو تو یہ تو کسی زبان کا نام نہیں عربی زبان میں یہ نام " غلام احمد " ہونا چاہئے تھا لیکن یہ آپ کا نام نہ تھا فارسی ترکیب لو تو "غلام احمد " ہو: ہونا چاہئے تھا لیکن آپ کا نام یوں آپ کا نام یوں بھی نہیں۔ کیونکہ آپ کے نام میں میم پر جزم ہے زیر نہیں ہے۔ اور اگر اردو یا پنجابی ترکیب سمجھو تو " احمد کا غلام " یا " احمد دا غلام " ہونا چاہئے تھا مگر اس طرح بھی نہیں۔ پھر یہ کون سی زبان کا نام ہے جو حضرت صاحب کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ پس سچی بات یہی ہے کہ آپ کا نام احمد تھا اور غلام صرف خاندانی علامت کے طور پر شروع میں بڑھا دیا گیا تھا۔ دسرا ثبوت آپ کا نام احمد ہونے کا یہ ہے کہ آپ نے ا نے اپنے سب لڑکوں کے دوسرا ثبوت ناموں کے ساتھ احمد لگایا ہے جو ا لگایا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ اپنا : نام احمد ہی جانتے تھے تبھی تو علامت کے طور پر سب بیٹوں کے نام کے بعد احمد لگایا ۔ ورنہ جبکہ احمد لگانے سے معنوں کے لحاظ سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوتا تھا۔ تو پھر احمد بڑھانے کا کیا فائدہ تھا؟ ظاہر ہے کہ احمد حضرت صاحب کا نام تھا اور وہ خاندانی علامت کے طور پر ہر ایک لڑکے کے نام کے ساتھ بڑھا دیا گیا۔ ९९ در تیسرا ثبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احمد ہونے کے متعلق یہ ہے کہ تیسرا ثبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے جس نام پر بیعت لیتے رہے ہیں وہ احمد ہی ہے کہ آپ نے کبھی غلام احمد کہہ کر بیعت نہیں لی۔ چنانچہ آپ میں سے سینکڑوں آدمی ایسے