انوارالعلوم (جلد 2) — Page 73
انوار العلوم جلد ۲ ۷۳ شکریہ اور اعلان ضروری لیں اور سختی کو ترک کر دیں۔ کیونکہ اللہ تعالی کا فضل اسی طرح نازل ہو گا۔ ہر ایک اعتراض کا جواب نہایت نرمی سے دیں۔ اور گالیاں دیتا اور ٹھٹھا کرنا ان کے لئے چھوڑ دیں جن کو خدا نے اس کام کے لئے مقرر رر کیا۔ کیا ہے ورنہ یہ کیونکر معلوم ہو گا کہ حق پر کون کون ہے۔ ہے ۔ اس اس کے ساتھ ہی میں جماعت کو ایک اور بات کی طرف بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ آپ لوگ ضرور اس پر غور کریں گے اور جس طرح ایک پیاسا پانی کے چشمہ کو دیکھ کر اس کی طرف دوڑتا ہے اس طرح آپ لوگ اس بات کے قبول کرنے کے لئے جلدی کریں گے۔ اور وہ یہ کہ کوئی قوم کبھی ترقی نہیں کرتی جب تک پورے زور سے تبلیغ کے کام کی طرف متوجہ نہ ہو۔ اور قرآن شریف نے تو مبلغین کے لى أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ فرما کر فیصلہ ہی کر دیا ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کا راز تبلیغ ہی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھ لو کہ جب سے مسلمانوں نے تبلیغ کے فرض کو بھلا دیا ہے اس وقت سے ان کی حکومت ، عزت دولت سب کچھ برباد ہونا شروع ہوا ہے۔ پس آپ لوگ قطعا اس کام سے غافل نہ ہوں تا ایسا نہ ہو کہ آپ کا قدم بھی پستی کی طرف چل پڑے۔ میں نے ۱۲ / اپریل کے جلسہ میں جماعت احمد یہ کے قائم مقاموں کے سامنے بیان کیا تھا کہ میرے دل میں تبلیغ کا ایسا جوش ہے کہ جس کی حدود میرے بیان میں نہیں آسکتیں اور یہ بھی بتایا تھا کہ انبیاء اور خلفاء کا پہلا کام ہی اللہ تعالٰی نے یہ مقرر فرمایا ہے۔ اسی طرح مومنین کو حکم دیا ہے کہ ہر ایک جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول رہے۔ لیکن میں نے اس وقت تک اس تحریک کے متعلق اس لئے کوئی اعلان شائع نہیں کیا کہ میں دعا میں مشغول تھا اور چاہتا تھا کہ اللہ تعالٰی سے پہلے استخارہ کرلوں۔ بعد میں اس کام کے لئے آپ لوگوں کو بلاؤں گا۔ سو آج دعاؤں اور استخارہ کے بعد میں آپ لوگوں کو وہ پیغام حق پہنچاتا ہوں جو دنیا کے ابتداء سے اللہ تعالیٰ کے بندے پہنچاتے آئے ہیں۔ اور وہ یہ ہے۔ کہ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ کون ہے جو خدا تعالی کے دین کی اشاعت میں میرا مددگار اور معاون ہو۔ خوب یاد رکھو کہ جو شخص اس آواز کا جواب دے گا وہ اپنے رب سے اجر عظیم کا مستحق ہو گا۔ کیونکہ یہ میرا کام نہیں بلکہ خدا کا کام ہے اور اللہ تعالی کسی کا احسان اپنے ذمہ نہیں رکھتا اگر تم ایک پیسہ اللہ تعالٰی کے راستہ میں خرچ کرو گے تو اس کے بدلہ میں وہ تمہیں وہ کچھ دے گا جس کو تم گن گا کو بھی نہ سکو گے۔