انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 74

انوار العلوم جلد ۲ ۷۴ شکریہ اور اعلان ضروری دین اسلام اس وقت ایک خطر ناک مصیبت میں ہے۔ اور اپنے اور پرائے سب اس کے دشمن ہو رہے ہیں۔ جو لوگ مسلمان کہلا رہے ہیں ان کے دل خود شکوک و شبہات کے پردوں میں لیٹے ہوئے ہیں اور وہ خود تیغ و سنان سے اسلام پر حملہ کر رہے ہیں۔ جو دشمن ہیں وہ تو دشمن ہی ہیں۔ جو کچھ بھی وہ کریں اسے کم سمجھنا چاہئے۔ اور اس خطر ناک مصیبت میں اللہ تعالیٰ نے تم کو اس کام پر مقرر کیا ہے کہ دین اسلام کی حفاظت کرو اور اندرونی اور بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرو۔ پس اپنے فرض کو پہچانو او غفلت کو ترک کر دو ۔ مال پھر بھی مل سکتا ہے لیکن یہ وقت پھر نہ ملے گا۔ بے شک آپ لوگوں پر چندوں کا بہت بوجھ ہے لیکن جو ثواب آپ جمع کر سکتے ہیں وہ ایسی بیش بہا چیز ہے ۔ کہ آنے والی نسلیں اس پر رشک کریں گی اور بہت ہوں گے جو اپنی بادشاہتوں کو ترک کرنا بخوشی قبول کریں گے بشر طیکہ ان کو آپ کے ثوابوں میں سے ایک ہزارواں حصہ بھی دے دیا جائے ۔ مجھے یقین ہے کہ بادشاہ اس مذہب کو قبول کریں گے اور سلطنتیں اپنے سر احمدیت کے آگے جھکا ئیں گی۔ لیکن جو رتبہ اور مرتبہ آپ کے حصہ میں آیا ہے وہ ان کو نصیب نہ ہو گا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ بڑے بڑے زبردست باد ت بادشاہ ابو بکر اور عمرہ بلکہ ابو ہریرہ کا نام لے کر بھی اللہ کہہ اٹھتے رہے ہے رہے ہیں اور چاہتے رضى رہے ہیں کہ کاش ان کی خدمت کا ہی ہمیں موقعہ ملتا ۔ پھر کون ہے جو کہہ سکے کہ ابو بکر اور عمر اور ابو ہریرہ الم نے غربت کی زندگی بسر کر کے کچھ نقصان اٹھایا۔ بے شک انہوں نے دنیاوی لحاظ سے اپنے اوپر ایک موت قبول کرلی۔ لیکن وہ موت ان کی حیات ثابت ہوئی اور اب کوئی طاقت ان کو مار نہیں سکتی۔ وہ قیامت تک زندہ رہیں گے ۔ پس تمہارے لئے بھی وہ دروازے کھولے گئے ہیں۔ اخلاص اور ثواب کی نیت سے اللہ تعالیٰ کے دین کی تائید میں ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لو۔ کیونکہ جو جس قدر موت اپنے لئے قبول کرے گا اسی قدر زندگی اس کو دی جائے گی۔ خدا کے قرب کے دروازے کھلے ہیں اور کوئی قوم نہیں جو ان کے اندر داخل ہونے کی خواہشمند ہو۔ ایک تم ہی تم ہو۔ پس ایک جست کرو اور اندر داخل ہو جاؤ۔ اسلام اور احمدیت کی اشاعت خدا کا کام ہے مگر وہ اپنے بندوں کو موقعہ دیتا ہے کہ وہ بھی ثواب حاصل کر لیں۔ آپ لوگوں نے لوں نے کل دنیا کے مقابلہ میں اپنے اخلاص اور نیک نیتی کو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بالا ثابت کر کے دکھا دیا ۔ پھر خلیفہ اول کے وقت میں تمہار ا قدم آگے سے بھی زیادہ تیز پڑنے لگا۔ کیونکہ تم نے دیکھا۔ کہ دشمن ہم پر خوش ہے اور ہماری تباہی کا منتظر ہے ۔ پس تم نے نہ چاہا کہ اسے تم پر بننے کا موقعہ ملے ۔ اب ایک تیسرا عہد آپ نے باندھا ہے اور میں امید