انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 72

انوار العلوم جلد ۲ شکریہ اور اعلان ضروری کا کام ہو سکتا ہے صرف خدا کا۔ خلیفہ اول ایک شان رکھتا تھا۔ اور اس کے کاموں کو اس کی طرف منسوب کیا بھی جاسکتا تھا۔ مگر میں کیا ہوں کہ کسی کو یہ خیال بھی گزر سکے۔ کہ اس فتنہ کے دور کرنے میں کچھ میرا بھی ہاتھ تھا۔ یہ طاقت نمائی شرک کے تمام شائبوں سے پاک تھی۔ اور انبیاء و اولیاء کا محبوب بے نقاب اس وقت دنیا پر ظاہر ہوا۔ تاکہ ان شرک کے ایام میں لوگوں کو بتادے کہ ایک مٹی کے ڈلے اور لکڑی کے کندہ سے بھی میں وہ کام لے سکتا ہوں جو دنیا کے بادشاہ نہیں کر سکتے۔ میرے پیارے رب رب ! ! تو تو آپ آپ ہی ہی بتا بتا کہ ہم کس طرح تیرے ان احسانات کا کا شکریہ ادا کریں۔ کیونکہ ہماری عقلیں کو تاہ اور ہمارے فہم کمزور ہیں۔ ہم تیرے پہلے بھی محتاج تھے۔ اور اب بھی محتاج ہیں۔ اور آئندہ بھی تیرے ہی محتاج ہوں گے۔ پھر ہمیں اے بادشاہ تجھ سے سوال کرنے میں کیا شرم ہو ۔ وہ شخص جس نے کبھی سوال نہ کیا ہو شرماتا ہے لیکن جو ہر وقت مجسم سوال بنا رہے ایسے سوال کرتے ہوئے کیا شرم آسکتی ہے۔ پس اے میرے رب ! تیرے حضور میں عاجزانہ عرض کرتا ہوں اسے قبول فرما کہ بادشاہوں کے دروازوں پر سے گداگر خالی ہاتھ نہیں لوٹا کرتے۔ جس طرح تو نے اس جماعت کے کثیر حصہ کو مجتمع اور متحد کر دیا ہے قلیل کو بھی ہمارے ساتھ ملا دے۔ میرے پیارے رب تو جانتا ہے کہ مجھے اپنی : اپنی بڑائی کی خواہش نہیں مجھے حکومت کا شوق کا شوق نہیں لیکن جماعت کا اتحاد مجھے مطلوب ہے۔ اور تفرقہ کو دیکھ کر میرا دل بیٹھا جاتا ہے۔ پس خدایا اپنا فضل کیجئے میرے زخمی دل پر مرہم کافور لگائیے مجھے جو کچھ بھی حضور نے دیا امیدوں سے بڑھ کر دیا۔ مگر موٹی مجھے اس معاملہ میں حرص سے معذور رکھئے۔ ابھی میری حرص کی آگ نہیں بھی اور میرے دل میں تڑپ ہے کہ کسی طرح سب کی سب جماعت پھر ایک سلک میں پروئی جائے اور ہم سب مل کر تیرے نام کو دنیا پر روشن کریں۔ طاقتور شہنشاہ یہ تیرے لئے کچھ مشکل نہیں۔ احمد کے نام کو دو ٹکڑے ہونے سے بچالے۔ پیارے یہ جماعت تیری پیاری جماعت ہے اور کون چاہتا ہے کہ اپنے پیاروں کے دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھے۔ - میرے دوستو! خوب یا درکھو کہ اللہ تعالی کا ہاتھ بہت زبردست ہے تم اپنے موٹی کے سامنے گر کر آہ و زاری کرو اور دعاؤں میں لگ جاؤ تا یہ بادل سورج کے سامنے سے ہٹ جائیں۔ اور وہ پہلے سے بھی زیادہ دنیا کو روشن کرے۔ میں اس موقعہ پر اخبارات کے ایڈیٹر ان کو بھی مشورہ دیتا ہوں کہ وہ آئندہ منکران خلافت کے متعلق سخت کلامی کو ترک کر دیں۔ میں جانتا ہوں کہ جس کے ہاتھ پر انسان بیعت کر چکا ہو اس کے خلاف بات سننا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن آپ لوگ نرمی سے کام