انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 593

انوار العلوم جلد ۲ ۵۹۳ حقيقة النبوة (حصہ اول) نبی بلا واسطہ نبوت پاتے ہیں۔ ایک بالواسطہ - ایک نبوة محدثوں میں بھی پائی جاتی ہے تو اس شخص کی سمجھ میں کیا آسکتا تھا وہ تو سرے سے الہام اور مجددین کا ہی منکر تھا۔ پھر آپ اس کے سامنے یہ تقریر کس طرح کرتے کہ میں مجددوں سے بڑھ کر ایک اور رتبہ پر فائز ہوں اور امتی نبی ایک خاص درجہ ہے اس کے عقائد کے مطابق تو یہی جواب تھا کہ اگر نبی کے لفظ سے تم چڑتے ہو تو پہلے بزرگوں نے بھی یہ لفظ استعمال کیا ہے پھر ان کو بھی کافر کہو اور اگر مجدد نہیں آسکتے تو رسول اللہ ال پر اعتراض کرو کہ آپ نے مجددوں کی پیشگوئی کیوں کی۔ اس جواب سے تو اس کو یہ سمجھانا تھا کہ مصلحین کا آنا بند نہیں اور بہت سے مجدد گزر چکے ہیں حتی کہ بعض نے یہ عقیدہ بھی ظاہر کیا ہے کہ نبی ہو سکتے ہیں جیسے کہ مثنوی رومی والوں نے محی الدین ابن عربی صاحب نے - مجدد الف ثانی صاحب نے اور عوام مثنوی والوں کے بہت ہی معتقد ہوتے ہیں اور پٹھان مجدد صاحب کے فدائی ہیں اور وہ شخص چونکہ نبوت اور تجدید دین کے معنے ہی یہ خیال کرتا تھا کہ دین کے کچھ نقص نکالے جائیں اور نیا کلمہ اور نئی نمازیں بنائی جائیں اس لئے اسے ان بزرگوں کے اقوال کی طرف جن کی عظمت عام طور پر لوگوں کے دلوں میں ہے متوجہ کیا گیا اور حدیث رسول اللہ ا اس کو سنائی گئی تاکہ اسے معلوم ہو کہ نبوت اور تجدید دین کے یہی معنے نہیں ہوتے کہ دین کے نقص نکالے جائیں اور نئی شریعت لائی جائے بلکہ یہ الفاظ مختلف معنے رکھتے ہیں چنانچہ بعض پچھلے بزرگوں نے نبوت کو اسلام میں جاری مانا ہے تو کیا ان کو بھی کافر کہو گے ؟ اور جب ہم ان بزرگوں کے اقوال کو دیکھتے ہیں تو ان میں سے کسی نے بھی رسالت کے ساتھ مبعوث ہونے کا دعویٰ نہیں کیا پس ان حوالوں سے یہ خیال کرنا کہ وہ نبی تھے صرف قلت تدبر کے باعث ہے ان کا تو یہ مذہب تھا کہ نبی آسکتا ہے اپنی نسبت مبعوث رسول ہونے کادعوی انہوں نے کبھی نہیں کیا اور نہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام پا کر کبھی یہ شائع کیا ہے کہ تم کو رسول کر کے بھیجا جاتا ہے ۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا ہے کہ اِنَّا اَرْسُلَنَا أَحْمَدَ إِلى قَوْمِهِ فَقَالُوا كَذَّابٌ أَشِر اور یہ بات تیرہ سو سال میں ایک ولی اور ایک محدث میں بھی نہیں پائی جاتی کہ وہ رسالت کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہو ۔ بے شک مقام رسالت تک ان میں سے بعض پہنچے لیکن چونکہ کل کمالات ختم نبوت انہوں نے حاصل نہ کئے اس لئے جزوی طور پر نبی تھے نہ کہ فی الواقع نبی ہوئے کیونکہ ظلی نبوت ہر پہلو اور ہر کمال میں عکس نام کی مقتضی ہے جو ان میں نہ تھا غرض کہ سوال کے مطابق جواب ہوتا ہے اور اس صرف اسی قدر مطلب نکالنا جائز ہوتا ہے جس کے لئے وہ جواب دیا گیا نہ کہ اس سے سے وہ س سے زائد اور