انوارالعلوم (جلد 2) — Page 592
انوار العلوم جلد ۳ ۵۹۲ حقيقة النبوة (حصہ اول) تعریف ہے وہ الہام ووحی بند نہیں ہاں آپ لوگوں نے جو وحی کی جھوٹی تعریفیں گھڑی ہیں کہ وہ ضرور حامل شریعت ہو اس کے ذمہ دار آپ ہیں نہ کہ ہم ۔ ہم تو مسیح موعود پر اس وحی کے آنے کے مقرنہیں جو قرآن کریم نے بیان کی ہے اس پر اس نے اس قدر کج بحثی شروع کی کہ میں حیران ہو گیا اور بڑے زور سے یہ بات بار بار پیش کی کہ قرآن کریم کی تشریح کو جانے دو۔ وہ تعریف جو فقہاء نے لکھی ہے اس کو لو اور ثابت کرو کہ مرزا صاحب پر وحی نازل ہوتی ہے اور اگر ثابت نہیں کر سکتے تو معلوم ہوا کہ آپ جھوٹے ہیں۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ میں نے اس کو بہت سمجھایا کہ مرزا صاحب تو اللہ تعالی کے بھیجے ہوئے ہیں ان اصطلاح سازوں کے بھیجے ہوئے تو نہیں کہ ان کی بنائی ہوئی تعریف کے مطابق ان کی وحی ثابت ہو جائے تب اس پر یقین کیا جائے ورنہ رد کر دی جائے اب کیا کوئی شخص میری گفتگو کو سن کر یہ کہہ سکتا تھا کہ میرا یہ مطلب ہے کہ جسے الہام ہو جائے وہ مسیح موعود اور نبی ہو جاتا ہے کیونکہ تب ہی تو حضرت مسیح موعود کے دعووں کو ثابت کرنے کے لئے یہ جو از الهام پر زور دے رہا ہے بلکہ پچھلے مسلموں کے حوالے دے رہا ہے ؟ پس اصل بات یہ ہے کہ سائل جو سوال کرتا ہے اس کے مطابق جواب ہوتا ہے چونکہ اس مدرس ندوہ کے خیال میں اب اس امت میں سے کسی شخص کا کوئی رتبہ پانا اس لئے نا ممکن ہے کہ وحی بند ہے اس کے سامنے پہلے یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ الہام کا دروازہ کھلا ہے اور تجدید دین کے لئے ہمیشہ مجددین آتے رہتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہ ہو گا کہ اس سے مسیح موعود کے مسیح ہونے یا نبی ہونے کا انکار مراد ہے ۔ اس سرحدی شخص کے سوالات کو دیکھو۔ اس کی بھی یہی حالت ہے وہ مجددین کا ہی منکر ہے اور اس کے خیال میں آنحضرت اس کے بعد قرآن کریم اور علماء کافی ہیں۔ کسی مجدد کی ضرورت نہیں۔ اور وہ نبوت کے معنے نیا کلمہ بنانا اور نئی عبادت مقرر کرنی سمجھتا ہے اب بتاؤ کہ جو شخص تجدید دین کا ہی قائل نہیں اور ندوہ کے مولوی کی طرح الہام کے دروازہ کو مسدود خیال کرتا ہے اور مجددین کی بجائے علماء کا وجود کافی سمجھتا ہے۔ اور اس کا خیال ہے کہ مجدد صرف دین کا نقص نکالنے آتے ہیں اور اس احمق کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ ایک شخص جو لاکھوں آدمیوں کا پیشوا اور ں کا ایک بڑی جماعت کا امام ہے بڑے بڑے لوگ اس کی غلامی میں ہیں اور اس کی جوتیاں اٹھانی فخر خیال کرتے ہیں اس کے سامنے گفتگو کس طرح کرنی چاہئے کیونکہ جیسا کہ بدر میں لکھا ہے کہ اس نے نہایت شوخی وخی سے کلام شروع کیا تھا۔ کیا یہ درست اور مناسب ہو۔ سکتا تھا کہ اس کے سامنے آر آپ نبوت کی اقسام اور اس کی تشریح شروع کرتے کہ ایک نبوت تشریعی ہوتی ہے ایک غیر تشریعی ایک