انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 542

انوار العلوم جلد ۲ ۵۴۲ اس حوالہ سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔ حقيق النبوة (حصہ اول) (۱) یہ کہ آنحضرت ا کے خاتم النبین ہونے کے یہ معنے نہیں کہ آپ کے بعد فیض روحانی بند ہے ۔ بلکہ یہ معنے ہیں۔ کہ آپ کے بعد ایسا فیضان جاری ہے۔ (۲) یہ کہ آپ کے فیضان سے ایک ایسی نبوت ملتی ہے جو پہلے کسی نبی کی اطاعت سے نہیں ملتی تھی۔ اور اس نبوت کا پانے والا امتی نبی کہلاتا ہے ۔ اب پہلے حوالہ اور اس حوالہ کو ملا کر دیکھو۔ کیا نتیجہ پیدا ہوتا ہے۔ پہلے حوالہ میں فرماتے ہیں۔ کہ محدث جسے جزوی نبی بھی کہہ سکتے ہیں۔ پہلی امتوں میں ہوتے رہے ہیں۔ اور اس حوالہ میں فرماتے ہیں۔ کہ امتی نبی وہ درجہ ہے جو پہلے نبیوں کی اتباع سے نہیں ملا کرتا تھا۔ اور ان کا درجہ ایسا بڑا نہ تھا کہ ان کی اتباع سے کوئی فردان کی امت کا نبی بن جائے۔ پس ان حوالوں کو ملا کر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پہلی امتوں میں محدث یا جزوی نبی تو ہوتے تھے ۔ لیکن پہلے نبیوں میں اس قدر طاقت نہ تھی کہ ان کے فیضان سے امتی نبی ہو سکے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ا کی امت میں صرف محد ثیت ہی جاری نہیں۔ بلکہ اس سے اوپر نبوت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کیونکہ محدث یا جزوی نبی کا درجہ تو وہ ہے جو پہلی امتوں کے بعض افراد کو بھی مل جایا کرتا تھا لیکن امتی نبی کا وہ درجہ ہے جو پہلے رسولوں کی اتباع سے نہیں مل سکتا تھا۔ کیونکہ وہ خاتم النبین نہ تھے ۔ اور جزوی نبی کے اوپر کا درجہ سوائے نبی کے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جزو کے بعد کل ہی ہوتا ہے۔ پس یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ا کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ مگر نبوت صرف آپ کے فیضان سے مل سکتی ہے۔ براہ راست نہیں مل سکتی۔ اور پہلے زمانہ میں نبوت براہ راست مل سکتی تھی۔ کسی نبی کی اتباع سے نہیں مل سکتی تھی۔ کیونکہ وہ اس قدر صاحب کمال نہ تھے جیسے آنحضرت ا الله - اور جبکہ نبوت کا دروازہ علاوہ محد ثیت کے امت محمدیہ میں کھلا ثابت ہو گیا۔ تو یہ بھی ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود بھی نبی اللہ تھے ۔ نہ یہ کہ آپ پ کا کا اصر اصل درجہ تو محدث ہونے نے کا کا تھا۔ تھا۔ نبی نبی کا کا خطاب خطاب ! بعض مشابہتوں کی وجہ سے دے دیا گیا۔ کیونکہ آپ کو خود رسول اللہ اللہ نے نبی کہا ہے۔ : اگر کوئی شخص کہے کہ یہ بات آپ نے کہاں سے نکال لی کہ محدث پہلے نبیوں کی اتباع سے ہو سکتے تھے ؟ حدیث میں تو یہ ہے کہ ایسے لوگ بنی اسرائیل میں ہوا کرتے تھے۔ یہ تو نہیں فرمایا ۔ کہ وہ امتی بھی ہوا کرتے تھے ۔ پس ہم ان دونوں حوالوں کو ملا کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں۔ کہ رسول اللہ