انوارالعلوم (جلد 2) — Page 541
انوار العلوم جلد ۲ ۵۴۱ حقيقة النبوة (حصہ اول) اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ فِيْمَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رِجَالٌ يُكَلِّمُوْنَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءَ فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَعُمَرُ ( صحیح بخاری کتاب المناقب - باب مناقب عمر بن الخطاب ( تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کے لئے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے سو دو سرا پیرا یہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو (یعنی لفظ نبی کو) کا ٹا ہوا خیال فرمالیں۔ (ماخوذ از اشتهار حضرت مسیح موعود ۳ / فروری ۱۸۹۲ء) اس عبارت سے مفصلہ ذیل فتار ، مفصلہ ذیل نتائج نکلتے ہیں :- (1) یہ کہ محدث نبی نہیں ہو تا بلکہ کسی مشابہت کی وجہ سے اس کا نام نبی رکھ دیا جاتا ہے (۲) یہ کہ محدث سے صرف مکلم مراد ہے یعنی جس سے خدا تعالیٰ کا کلام ہو تا ہو نہ کہ نبی۔ (۳) یہ کہ ایسے محدث بنی اسرائیل میں بہت گزرے ہیں۔ (۴) یہ کہ اس امت میں سے بھی ایسے محدثوں کے ہونے کی امید ہے۔ (۵) یہ کہ حضرت مسیح موعود نے جہاں جزوی نبی کا لفظ اپنی کتابوں میں لکھا تھا اس سے مراد صرف محدث تھا۔ اور لوگوں کو چاہئے کہ اسے کاٹ کر محدث ہی لکھ دیں۔ یه وہ نتائج ہیں جو حضرت مسیح موعود کی مذکورہ بالا تحریر سے نکلتے ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ آپ کی تحریر سے نکلتے ہیں۔ بلکہ صحیح بخاری کی حدیث سے آپ ان کی صحت پر دلیل لاتے ہیں۔ اور اس طرح اس قول کو اور بھی مضبوط کر دیتے ہیں۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے ۔ کہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ا نے فرمایا کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جن کو الہام تو ہوا کرتا تھا لیکن وہ نبی نہ تھے ۔ پس اگر میری امت میں سے ایسے آدمی ہوئے تو عمر ضرور ہوں گے۔ غرض کہ اس حوالہ سے ثابت ہے کہ بنی اسرائیل میں محدث بہت سے گزرے ہیں۔ اب میں ایک اور حوالہ حضرت مسیح موعود کا نقل کرتا ہوں۔ آپ ختم نبوت کی تشریح میں فرماتے ہیں :- " وہ خاتم الانبیاء بنے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا۔ بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے ۔ بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔ اور اس کی امت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہو گا۔ اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں ۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے १९ لئے امتی ہونالازمی ہے ۔ “ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۹-۳۰)