انوارالعلوم (جلد 2) — Page 540
انوار العلوم جلد ۲ ۵۴۰ حقيقة النبوة (حصہ اول) کرنے والے تھے بستیوں کو ۔ مگر اس صورت میں کہ اس کے باشندے ظالم ہو جائیں۔ ان دونوں آیات سے ثابت ہے۔ کہ اس وقت تک کوئی عام عذاب الہی نہیں آتا۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی رسول مبعوث نہ ہو۔ لیکن اس زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایسی تباہیاں اور عذاب آرہے ہیں کہ اس سے پہلے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ پس یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اس وقت کوئی رسول دنیا میں مبعوث ہوا ہے اور حضرت مسیح موعود نے چونکہ اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں کیا ہے اس لئے آپ کی رسالت کے ماننے کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ (۱۷) حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:- ہمارا نبی اللہ اس درجہ کا کا نبی ہے کہ اس کی امت کا ایک فرد نبی ہو سکتا ہے اور عیسیٰ کہلا १९ سکتا ہے۔ حالانکہ وہ امتی ہے ۔ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۵۵) یہ عبارت بھی حضرت مسیح موعود کی نبوت پر شاہد ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود آنحضرت ا کی بلند شان کا یہ ثبوت دیتے ہیں کہ آپ کی امت کا ایک شخص نبی ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ آنحضرت ا کے بعد کوئی نبی ہو ہی نہیں سکتا۔ تو پھر یہ فضیلت ایک بناوٹی فضیلت ٹھرتی ہے۔ کیونکہ جو چیز ہے ہی نہیں اسے فرض کر کے فضیلت ثابت نہیں ہو سکتی ۔ حضرت مسیح موعود کے قول سے تو صاف ثابت ہے کہ اس امت میں سے نبی ہو سکتا ہے کیونکہ آپ اس بات کو آنحضرت اللہ کی فضیلت قرار دیتے ہیں۔ پس اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ اس امت میں نبی آہی نہیں سکتا تو حضرت مسیح موعود کی یہ دلیل غلط جاتی ہے کیونکہ آنحضرت اللہ کی جناب سے جو فیضان جاری ہی نہیں ۔ اس کی بناء پر آپ کی فضیلت ثابت کرنی درست نہیں لیکن چونکہ حضرت مسیح موع موعود اسے فضیلت آنحضرت بتاتے ہیں۔ بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد نبی آسکتا ہے۔ اور جب نبی کا آنا منع نہ ہوا۔ تو مسیح موعود کی نبوت ثابت ہے۔ ۱۸- اب میں ایک زبرد از بردست دلیل دیتا ہوں۔ جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ آنحضرت ا کے بعد ایسا نبی جو فی الواقعہ نبی ہو ۔ آسکتا ہے۔ جو اپنے درجہ میں نبیوں میں شامل ہو گا نہ کہ محدثوں میں۔ اور یہ کہ حضرت مسیح موعود ایسے ہی نبی ہیں۔ حضرت مسیح موعود محدثیت کی نسبت ۱۳ فروری ۱۸۹۲ء کے اشتہار میں لکھتے ہیں۔ اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے بلکہ صرف محدث مراد ہے جس کے معنے رَضِيَ آنحضرت اللہ نے مکلم مراد لئے ہیں۔ یعنی محمد ثوں کی نسبت فرمایا ہے - عَنْ أَبِي هُرَيْرَ