انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 489

انوار العلوم جلد ۲ ۴۸۹ حقيقة النبوة (حصہ اول) بڑی شئے ہے ۔ ہمارا خیال کیا یقین ہے کہ آپ کی اطاعت کے بغیر تو معمولی تقویٰ بھی نصیب نہیں ہوتا۔ پس ہمارے مقابلہ میں آپ وہ حوالے کیوں پیش کرتے ہیں۔ جن سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت آنحضرت اللہ کے فیضان سے ہے۔ ہم نے کب انکار کیا ہم تو آپ سے آپ سے بہت زیادہ اس امر کے قائل ہیں۔ اور مسیح موعود کے درجہ کی بلندی کی وجہ صرف یہی مانتے ہیں کہ مسیح موعود آپ کی فرمانبرداری میں سب پہلوں اور پچھلوں سے بڑھ گیا۔ اور آنحضرت ا کی جو معرفت آپ نے پائی اور کسی نے نہ پائی اور یہی تو وجہ ہے کہ آپ کو نبوت کا درجہ ملا۔ اور کسی کو نہ ملا۔ ممکن ہے اوپر کے مضمون کا ایک حصہ بعض لوگ نہ سمجھیں۔ کیونکہ اس میں بعض اصطلاحات آگئی ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو بعض لوگ شیر کی مثال دے دے کر ڈرانا چاہیں اس لئے میں اس مضمون کو اور رنگ میں عام فہم کر کے بیان کر دیتا ہوں۔ تاہر ایک طالب حق اس کو سمجھ لے۔ اور جان لے کہ یہ شیر کی مثال بھی ایک ڈراوا ہے ورنہ اس کا اثر حضرت صاحب کے دعوے پر کچھ نہیں پڑتا۔ اس مضمون کے اچھی طرح سمجھنے کے لئے یہ بات اچھی طرح سے ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ مجازی کا لفظ جب کسی اور لفظ کے ساتھ ملایا جائے تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ در حقیقت کچھ ہے ہی نہیں۔ اور صرف نام رکھ دیا گیا ہے ۔ بلکہ یہ لفظ مختلف معنی دیتا ہے۔ اور ہمیشہ اس سے کہیں مراد نہیں ہوتی کہ جس لفظ کے ساتھ وہ لگایا گیا ہے۔ اس میں کسی قسم کی بھی حقیقت ثابت نہیں۔ بلکہ جس حقیقت کو مد نظر رکھ کر یہ لفظ بڑھایا جائے ۔ صرف اسی کے عدم پر دلالت کرتا ہے۔ شیر ایک جانور کا نام ہے۔ اور اردو کا لفظ ہے۔ جب ایک آدمی کو ہم شیر کہہ دیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ لغت میں شیر جس چیز کا نام ہے یہ شخص اس سے مشابہت رکھتا ہے۔ اور لغت کے لحاظ سے آدمی کا نام شیر مجازی معنوں کے رو سے ہے۔ لیکن فرض کرو۔ اگر کوئی جماعت شیر کے لفظ کے کوئی اور معنی مقرر کرے۔ تو جب ان اصطلاحی معنوں کے رو سے شیر کا لفظ بولا جائے گا تو لغت کے لحاظ سے تو وہ حقیقت کے خلاف ہو گا لیکن اس جماعت کی اصطلاح کے رو سے وہ حقیقت ہی ہو گا۔ یہ تو ایک فرضی مثال ہے۔ اب میں ایسی مثالیں دیتا ہوں۔ جو اس وقت ہماری زبان میں موجود ہیں۔ نماز اردو فارسی میں اس عبادت کا نام مشہور ہے جو مسلمانوں میں رائج ہے۔ اگر کوئی مسلمان نماز کا لفظ بولتا ہے۔ تو مسلمانوں میں مشہور ہونے کے لحاظ سے نماز کے حقیقی معنی اس عبادت کے