انوارالعلوم (جلد 2) — Page 488
انوار العلوم جلد ۲ ۴۸۸ حقيقة النبوة ( حصہ اول) لحاظ سے حضرت مسیح موعود پر نبی کا لفظ مجازا استعمال ہوتا ہے مگر اس کے معنی صرف یہ ہوں گے کہ آپ عوام کی اصطلاح کے رو سے نبی نہ تھے یعنی شریعت ت جدیدہ نہ لائے تھے ۔ اور یہ معنی نہ ہوں گے کہ آپ شریعت کے معنوں سے بھی مجازی نبی تھے۔ اب رہی چوتھی حقیقت یعنی حقیقت عرفیہ خاص- سو اور لوگوں کی اصطلاحات تو ہمیں تلاش کرنے کی حاجت نہیں۔ حضرت مسیح موعود کی کتب میں دیکھیں تو آپ نے بھی عوام کو اپنی نبوت کی قسم سمجھانے کے لئے ایک اصطلاح قرار دے لی ہے اور اس کی یہ حقیقت قرار دی ہے کہ وہ شریعت لائے۔ اور اس کی وجہ صاف ہے۔ اور وہ یہ کہ عوام الناس میں نبی کی حقیقت شریعت کا لانا سمجھا جاتا ہے۔ پس حضرت مسیح موعود نے بھی عوام کو سمجھانے کے لئے انہی کی فرض کردہ حقیقت کو تسلیم کر کے انہیں سمجھایا ہے کہ میں ان معنوں سے نبی نہیں ہوں کہ کوئی شریعت جدیدہ لایا ہوں۔ بلکہ ان معنوں کے رو سے میں مجازی نبی ہوں یعنی شریعت لانے والے نبیوں سے ایک رنگ میں مشابہت رکھتا ہوں۔ گو شریعت لانے والا نبی نہیں ہوں۔ کیونکہ آنحضرت ا کے بعد کوئی جدید شریعت نہیں۔ پس یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے عوام الناس کے خیال میں نبی کی جو حقیقت ہے اس کے لحاظ سے اور عوام الناس کو سمجھانے کے لئے جو حقیقت نبوت بطور ایک اصطلاح کے فرض کی ہے۔ اس کے لحاظ سے بھی آپ مجازی نبی ہیں۔ اور اس کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ آپ شریعت نہیں لائے نہ یہ کہ اسلام کی اصطلاح میں بھی آپ نبی نہیں ہیں۔ اب بتاؤ کہ وہ کون سا شخص ہے جو حضرت مسیح موعود کی نبوت کو تشریعی نبوت قرار دیتا ہے جس کے قائل کرنے کے لئے مجازی نبوت پر اس قدر زور دیا جاتا ہے۔ میں اور میرے سب مرید تو آپ کو ایسا ہی نبی تسلیم کرتے ہیں جس نے کوئی جدید شریعت جاری نہیں کی اور نہ آنحضرت ال کی اطاعت کے بغیر نبی ہوئے بلکہ ہم تو ایسے خیال کو کفر خیال کرتے ہیں۔ اور ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے آنحضرت اس کے بعد اللہ تعالی تک پہنچنے کے سب دروازے بند ہیں۔ اور سوائے اس شخص کے جو ا شخص کے جو اپنے آپ کو آنحضرت ا کی محبت میں فنا کر دے۔ اور کسی کو کوئی درجہ نہیں مل سکتا۔ اللہ تعالی اس سے خوش ہے جو آپ کی فرمانبرداری کا جوا اپنی گردن پر اٹھاتا ہے۔ اور جو شخص آپ کی جناب سے روگردانی کرتا ہے وہ اس دنیا میں بھی ذلیل ہے اور اگلے جہان میں بھی۔ عزت صرف آپ کی غلامی میں ہے۔ اور بڑائی آپ کی کفش برداری میں۔ خدا تعالٰی کی معرفت آپ کی معرفت پر موقوف ہے اور خدا تعالیٰ کا قرب آپ کے قرب پر بند ۔ نبوت تو ایک