انوارالعلوم (جلد 2) — Page 490
انوار العلوم جلد ۲ ۲۹۰ حقيقة النبوة ( حصہ اول) ہوں گے جو مسلمان کرتے ہیں اور اگر کوئی مسلمان اس لفظ کو ہندوؤں کی عبادت یا عیسائیوں کی عبادت یا پارسیوں کی عبادت کے لئے استعمال کرے۔ مثلاً عیسائیوں کے گر جا کرنے کا نام یہ رکھے کہ عیسائی نماز پڑھ رہے ہیں یا پارسیوں کے دعا کرنے کا نام یہ رکھے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ تو اس مسلمان کا عیسائیوں یا پارسیوں کی عبادت کو نماز کہنا مسلمانوں کے عرف کے لحاظ سے مجازی کہلائے گا۔ یعنی در حقیقت وہ اسلامی نماز تو نہیں۔ لیکن چونکہ عبادت کے لحاظ سے مشابہ ہے۔ اس لئے اس کا نام مجاز نماز رکھ دیا گیا مگر یہی لفظ ایک پارسی کہ وہ بھی اپنی عبادت کو نماز کہتا ہے۔ کیونکہ نماز فارسی لفظ ہے اور فارس کا مذہب اسلام سے پہلے زرتشتی مذہب تھا۔ یا ایک بابی کہ وہ بھی اپنی عبادت کا نام نماز ہی رکھتا ہے۔ اپنی عبادت کے متعلق استعمال کرتے اور کہتے کہ ہم نماز پڑھنے لگے ہیں۔ تو اب یہ پارسیوں یا بابیوں کے مذہب کے رو سے مجاز نہیں ہو گا۔ بلکہ اپنے حقیقی معنوں کے رو سے ہوگا۔ کیونکہ ان کے نزدیک نماز ایسی عبادت کا نام ہے جو وہ کرتے ہیں۔ پس چونکہ نماز ایک شرعی کام ہے مسلمانوں کے منہ سے یہ لفظ اسلامی عبادت کے متعلق نکلے تو حقیقی معنوں کے رو سے ہو گا۔ اور پارسیوں یا باہیوں کی عبادت کے متعلق نکلے تو مجازی معنوں میں اس کا استعمال سمجھا جائے گا اس کے خلاف ایک پاری یا بابی جب اپنی عبادت کے متعلق نماز کا لفظ استعمال کرے تو وہ حقیقی معنوں کے رو سے ہوگا۔ اور جب اسلامی عبادت کے متعلق استعمال کرے تو وہ مجازی معنوں کے رو سے ہو گا۔ : اسی طرح رسول کا لفظ ہے۔ لغت میں اس کے معنی بھیجے ہوئے کے ہیں جب زبان عربی میں رسول کے لفظ کا کسی ایسے شخص پر جسے کسی کام کے لئے بھیجا گیا ہے استعمال کیا جائے گا۔ تو لغت کے لحاظ سے یہ بالکل درست ہو گا۔ اور کہیں گے کہ یہ لفظ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ لیکن شریعت اسلام میں رسول کا لفظ اللہ کے بھیجے ہوؤں اور نبیوں پر استعمال کیا جاتا ہے پس جب شریعت اسلام میں یہ لفظ نبی کے معنی میں استعمال ہو گا۔ تو کہیں گے کہ یہ حقیقی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن جب کتب دینیہ میں کسی ایسے شخص کو جو فی الواقعہ رسول نہیں رسول کہہ دیا جائے تو کہیں گے جب کتب دینیہ میں جوفی الواقعہ تو کہ یہ لفظ مجازی طور پر استعمال ہوا ہے گو لغت کے لحاظ سے حقیقی طور پر ہی کیوں نہ استعمال ہوا ہو ۔ اسی طرح لغت میں رسول کا لفظ مجازی تب کہا جائے گا۔ کہ ایک شخص کو کسی نے بھیجا تو نہیں۔ مگر کسی اور وجہ سے اسے رسول کہہ دیا جائے تو کہیں گے مجازاً اسے رسول کہہ دیا گیا ہے۔ غرض شریعت کے لحاظ سے تو مجازی رسول کے اور معنی ہوں گئے اور لغت کے لحاظ سے اور معنی ہوں گے۔