انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 487

انوار العلوم جلد ۲ ۲۸۷ حقيقة النبوة (حصہ اول) الْأَوْضَاعِ الْمَذْكُورَةِ وَ فِي الْمَجَازِ عَدْمُهُ " (تور عدمه " (نور الانوار شرح المنار صفحه (۹۲) ( ترجمہ ) حقیقت اس لفظ کو کہتے ہیں جس سے مراد وہی معنی لئے گئے ہوں جن کے لئے وہ مقرر کر لیا گیا ہو ۔۔۔ اور وضع یعنی مقرر کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس لفظ سے کسی قرینہ کے بغیر وہ معنی سمجھے جاتے ہوں۔ اب اگر یہ تعیین واضع لغت کی طرف سے ہو تو وضع لغوی کہلائے گی۔ اور اگر شریعت نے بعین کی ہو تو وضع شرعی ہوگی۔ اور اگر کسی خاص گروہ کی تعیین ہو تو وضع عرفی خاص کہلائے گی۔ اور اگر عرف عام سے یہ تعیین پیدا ہو گئی تو وضع عرفی عام کہلائے گی۔ اور حقیقت کی تعریف میں یہ تمام قسمیں ملحوظ ہیں (پس حقیقت کی چار قسمیں ہوں گی۔ حقیقہ لغویہ - حقیقہ شرعیہ - حقیقة عرفیه خاص - حقیقہ عرفیہ عام) اور مجاز میں بھی انہی تعیینوں کا عدم ملحوظ ہے (پس مجاز کی بھی چار قسمیں ہوں گی۔ مجاز و ضعی۔ مجاز شرعی - مجاز عرفی خاص - مجاز عرفی عام) اس عبارت سے آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ حقیقت کی چار قسمیں ہیں۔ حقیقت لغو یہ - حقیقت شرعیہ - حقیقت عرفیہ خاص ۔ اور حقیقت عرفیہ عام - اور ان میں سے ہر ایک حقیقت کے مقابلہ میں ایک مجاز ہوتا ہے یعنی اگر حقیقت لغو یہ ہو تو اس کے مقابلہ میں مجاز لغوی ہو گا۔ اور اگر حقیقت شرعیہ ہے تو اس کے مقابلہ میں مجاز شرعی ہو گا۔ اور اگر حقیقت عرفیہ خاص ہے تو اس کے مقابلہ میں مجاز عرفی خاص ہو گا۔ اور اگر حقیقت عرفیہ عام ہے تو اس کے مقابلہ میں مجاز عرفی عام ہو گا۔ اس کے علاوہ یہ بھی یاد رہے کہ مجاز ہمیشہ حقیقت کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔ اور حقیقت سے مجاز کا پتہ لگایا جاتا ہے نہ کہ مجاز سے حقیقت کا۔ اب اس مسئلہ کے صاف ہونے کے بعد دیکھتے ہیں کہ حضرت صاحب نے جو حقیقی نبوت کا لفظ استعمال کیا ہے تو مذکورہ بالا چار حقیقتوں میں سے کسی حقیقت کے ماتحت یہ لفظ آتا ہے تاکہ مجاز کے معنی اس حقیقت کے مقابل کی مجاز کے کئے جائیں اب ہم نبی کے معنی جب لغت میں تلاش کرتے ہیں تو اسکا مطلب صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر ہوں جو اہم امور کے متعلق ہوں۔ اور خدا تعالی اس کا نام نبی رکھے۔ اور شریعت لانے والے کی شرط دنیا کی کسی لغت میں نہیں پاتے پس معلوم ہوا کہ یہ حقیقت لغو یہ نہیں ہے ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ کیا یہ حقیقت شرعیہ ہے تو قرآن کریم یا احادیث میں بھی نبی کے معنی وہی ملتے ہیں۔ جو لغت کرتی ہے۔ اور جو میں بالتفصیل پہلے لکھ آیا ہوں۔ پس یہ حقیقت شرعیہ بھی نہیں۔ ہاں اگر عوام کے محاورہ کو دیکھیں تو ان کے ہاں نبی بے شک اس کو کہتے ہیں جو شریعت جدیدہ لائے یا بلا واسطہ نبوت پائے ۔ پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ عوام اپنی نادانی سے نبی کی جو حقیقت بتاتے ہیں اس کے