انوارالعلوم (جلد 2) — Page 486
انوار العلوم جلد ۲ ۱۲۸۶ حقيقة النبوة (حصہ اول) میں مرزا صاحب کو حقیقی نبی نہیں مانتا تو پھر اس فقرہ سے جس کے پہلے اگر لگا ہوا ہے کسی طرح حقیقی نبی کا مفہوم سمجھا گیا۔ میں نے تو اس جگہ یہ بتایا تھا کہ اصطلاحات کے تغیر سے الفاظ کے استعمالات میں بھی تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ اس طیش میں آکر جناب مولوی صاحب نے مجھ پر دھو کے کا الزام بھی لگایا ہے۔ لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس لئے قابل افسوس نہیں۔ اب میں اس بات کی طرف آتا ہوں کہ حقیقۃ الوحی میں جو یہ عبارت ہے کہ میرا نام اللہ تعالی نے مجاز کے طور پر نبی رکھا ہے نہ کہ حقیقت کے طور پر ۔ اس کے کیا معنی ہیں ۔ اور کیا اس نبوت کو مجازی قرار دینا ثابت نہیں کرتا کہ حضرت مسیح موعود حقیقت میں نبی نہ تھے ؟ بلکہ جس طرح بہادر آدمی کو مجازا شیر کہہ دیتے ہیں۔ اور وہ اس سے در حقیقت شیر نہیں ہو جاتا۔ اسی طرح حضرت صاحب کو نبی کہہ دیا گیا ہے اور اس سے آپ در حقیقت نبی نہیں ہو گئے۔ سو اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ ایسا خیال مجاز و حقیقت کے معنی نہ سمجھنے کی وجہ ۔ ی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر جناب مولوی صاحب بجائے مجھ پر الزام بجائے مجھ پر الزام لگانے کے کہ میں مجاز کے معنوں کو چھپاتا ہوں۔ اس بات کی کوشش فرماتے کہ حقیقت کے معنی دریافت کرلیں تو شاید انہیں حضرت صاحب کی مذکورہ بالا تحریر میں مجاز کا لفظ دیکھ کر اس قدر خوشی نہ ہوتی جو اب حاصل ہوئی ہے کیونکہ اس صورت میں ان کو معلوم ہو جاتا کہ یہ حوالہ ان کے لئے ہرگز مفید نہیں بلکہ اس حوالہ سے صرف اسی قدر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کوئی نئی شریعت نہیں لائے اور اس بات کا انکار کسے ہے کہ آپ غیر تشریعی تھے۔ پس اس حوالہ سے یہ ثابت کرنا کہ آپ نبی نہ تھے بلکہ آپ کو نبی اسی رنگ میں کہا گیا ہے جس رنگ میں کہ ایک بہادر آدمی کو شیر کہا جاتا ہے۔ اور جس طرح وہ بہادر آدمی شیر نہیں ہو جاتا۔ آپ اس طرح نبی کہنے سے نبی نہیں ہو جاتے ہرگز درست نہیں۔ چنانچہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے میں علم اصول کی کتاب نور الانوار سے حقیقت و مجاز کی تعریف نقل کر دیتا ہوں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ کو کیا دھوکا لگا ہے۔ نور الانوار میں حقیقت و مجاز کی تعریف حسب ذیل لکھی ہے : أَمَّا الْحَقِيقَةُ فَاسْمٌ لِكُلِّ لَفْظِ أُرِيدَ بِهِ مَا وُضِعَ لَهُ وَالْمُرَادُ بِالْوَضْعِ تَعْيِينَهُ لِلْمَعْنَى بِحَيْثُ يَدُلُّ عَلَيْهِ مِنْ غَيْرِ قَرِينَةٍ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ التَّعْبِينُ مِنْ جِهَةِ وَاضِعِ اللُّغَةِ فَوَضَعَ لُغَوِيٌّ وَإِنْ كَانَ مِنَ الشَّارِعَ فَوَضَعُ شَرْعِيَّ، وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ مَخْصُوصِ فَوَضَعُ عُرْفَةً خَاضٍ وَإِلَّا فَوَضَعُ هُوَ فِي عَامَ وَالْمُعْتَبَرُ فِي الْحَقِيقَةِ هُوَ الْوَضْعُ بِشَيْ ءٍ مِنَ 2