انوارالعلوم (جلد 2) — Page 393
انوار العلوم جلد ۲ ۳۹۳ حقيقة النبوة (حصہ اول) کہیں کہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ نیاد عوٹی کرنے پر تئیس سال گزرنے چاہئیں نہ کہ ہر نئے الہام پر ۔ تو میں کہتا ہوں کہ یہ تو آپ نے اپنی طرف سے بات بنائی ہے۔ قرآن کریم کی کس آیت سے یہ شرط ثابت ہے اور پھر میں کہتا ہوں کہ اس آیت کے لفظوں پر تو غور کرو۔ اس میں تو لو تقول لکھا ہے ۔ اگر ہر نئے دعوے کے بعد تئیس سال گزرنے کی شرط ہے تو اس سے زیادہ ہر الہام پر تئیس سال گزرنے کی ضرورت ہو گی۔ کیونکہ آیت کے اصل الفاظ میں جھوٹے الہام کا ہی ذکر ہے اور نبوت اس سے ضمناً ثابت ہوتی ہے اس وجہ سے کہ جو جھوٹا نبی بنے گا ضرور ہے کہ وہ جھوٹے الہام بھی بنائے۔ پس آپ کی لگائی ہوئی شرط اگر کوئی شرط ہے تو اصل الفاظ زیادہ مستحق ہیں کہ ان کا لحاظ رکھا جائے اور ضرور ہے کہ ہر الہام پر بھی تئیس سال گزر جائیں تب کوئی شخص اس میں سچا ثابت ہو ۔ نعوذ بالله من هذه الخرافات ۔ بات یہ ہے کہ ابتدائے الہام سے مدت گنی جاتی ہے نہ کہ درمیانی دعوؤں سے اگر ابتدائی الہام کے شائع کرنے کے بعد تئیس سال گزر جائیں۔ تو ایسا مامور سچا ثابت ہو گیا۔ ضروری نہیں کہ اس کے ہر ایک دعوے پر بھی تئیس سال گزریں۔ اور جو شخص دعوے پر تئیس سال گزر جانے کی شرط لگاتا ہے۔ وہ یاد رکھے کہ وہ خاتم النبین پر بھی اعتراض کرتا ہے کیونکہ آنحضرت ا کو خاتم النبین کا خطاب مدینہ میں ملا ہے۔ اور خاتم البين سورة احزاب میں آپ کو کہا گیا ہے۔ جو مدینہ میں اتری ہے۔ اور چھٹے سال میں اتری ہے۔ جس کے چار سال بعد آنحضرت اللہ کا انتقال ہو گیا۔ لیکن کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ دیکھو آنحضرت ﷺ کو خاتم النبین قرار نہ نه دو درنه نعوذ باللہ من ذالک آپ جھوٹے ثابت ہوں گے۔ کیا ایسے انسان کو آپ عقل و خرد سے کو را خیال نہیں کریں گے اگر ایسا ہی سمجھیں گے تو کیوں؟ کیا یہ بھی ایک نیا دعوی نہیں تھا بہت سے نبی دنیا میں گزر چکے تھے کسی نے یہ دعوی نہ کیا تھا۔ جس سے معلوم ہوا کہ خاتم النبین ہو نا نبوت کی شرط نہیں۔ بلکہ ایک الگ دعوئی ہے اور آنحضرت اس دعوے کے بعد چار سال میں فوت ہو گئے ۔ پس کیا نعوذ باللہ آپ مورد اعتراض ٹھرے ؟ نعوذ باللہ من ذلک - نعوذ باللہ من ذلک - نعوذ باللہ من ذلک - ں سے یہ ہے علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھیں کہ اگر آپ اس شرط پر زور دیں۔ تو جس مطلب کو حاصل کرنے کے لئے آپ نے یہ دلیل دی ہے وہ خود باطل ہو جاتا ہے۔ آپ کی غرض تو اس اعتراض۔ که مسیح موعود کادعوی باطل نہ ہو۔ لیکن اگر آپ غور فرمائیں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا۔ کہ اگر اس اصل کو تسلیم کیا جائے جیسا کہ آپ کے مضمون سے ظاہر ہے کہ ہر نئے دعوے پر تئیس